Updated: August 28, 2026, 10:01 PM IST
| Washington
عبد السید نے اپنی تنقید کا دائرہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں تک وسیع کیا اور ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے ٹیرف کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کو ایک ایسے شخص کے طور پر مسترد کر دیا جو ٹرمپ کے ایجنڈے پر محض ”اندھا دھند مہر“ لگائیں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ اور عبدالسید۔ تصویر: ایکس
سینیٹ کیلئے ڈیموکریٹک امیدوار عبد السید نے ۲۶ اگست کو مشی گن کے فارمنگٹن ہلز میں ایک ٹاؤن ہال کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے نام کے بار بار غلط تلفظ کو انتخابی مہم کے ایک لطیفے میں تبدیل کر دیا۔ ان کے اس مزاح پر حاضرین نے دیر تک قہقہے لگائے اور تالیاں بجائیں۔
ٹرمپ نے ۴۱ سالہ ڈیموکریٹ پر کئی بار حملے کرتے ہوئے انہیں ”کمیونسٹ“، ”نفرت پھیلانے والا شخص“، اور ”فحش کلمات سے بھرپور“ قرار دیا ہے۔ عبد السید ٹرمپ کی جانب سے اپنے پہلے نام کے تلفظ کی کوششوں سے خاصے محظوظ نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ”ڈونالڈ ٹرمپ، چونکہ وہ شوروغل اور سنسنی خیزی کی عادت سے باز نہیں رہ سکتے، اس لئے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے میرا نام ہٹا ہی نہیں پا رہے۔“
اس کے بعد انہوں نے عربی میں کہا کہ ”حبیبی، اگر آپ نام درست نہیں بول سکتے، تو نام مت ہی لیں۔“ اس موقع پر انہوں نے ٹرمپ کے تلفظ کی نقل اتارتے ہوئے ”عبدُ ل، ابُلّ“ کہا جس میں انہوں نے آخری ”ل“ کو لمبا کھینچا اور پوچھا، ”بھائی، آپ کو اس طرح کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ عجیب اور ناگوار لگتا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ایران کی امریکہ کو سخت دھمکی، محسن رضائی کانیتن یاہو کو جہنم بھیجنے کا انتباہ
پھر السید نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ نتالی ہارپ، جو ٹرمپ کی ایک معاون ہیں اور اکثر صدر کے ساتھ نظر آتی ہیں، ٹرمپ کو یہ کلپ دکھائیں گی اور ”وہ بہت غصہ ہوں گے۔“ عبد السید کے اس جملے پر تقریباً ۱۰ سیکنڈ تک قہقہے اور تالیاں گونجتی رہیں۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۳ء میں نتالی کی جانب سے ٹرمپ کو لکھے گئے ذاتی خطوط کی رپورٹس کے بعد ہارپ اور ٹرمپ کے تعلقات کے گرد ماضی میں عوامی قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی تھیں۔
مذاق سے ہٹ کر، عبد السید نے اپنی تنقید کا دائرہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں تک وسیع کیا اور ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے ٹیرف کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز کو ایک ایسے شخص کے طور پر مسترد کر دیا جو ٹرمپ کے ایجنڈے پر محض ”اندھا دھند مہر“ لگائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ICE کی ریکارڈ گرفتاریاں، اکثریت کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں
عبد السید کی یہ مزاحیہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ان کے حامیوں نے اسے ”انتہائی پُرمزاح“ قرار دیا اور مشی گن کے ووٹروں سے انہیں منتخب کرنے کی اپیل کی، جبکہ ناقدین نے اس تمسخر پر سوال اٹھائے اور السید سے جڑے دیگر تنازعات کی طرف اشارہ کیا۔ امیدوار کے لیے، اس لمحے نے ٹرمپ کے حملوں کو مہم کے مواد میں تبدیل کرنے اور اسی انداز میں جواب دینے کی اپنی تیاری ظاہر کرنے کا ایک موقع فراہم کیا۔