Updated: August 13, 2026, 10:14 PM IST
| Tehran
ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’بے بنیاد جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرۂ عرب کو ملانے والی یہ اہم آبی گزرگاہ بدستور ایران کے مکمل انتظام اور کنٹرول میں ہے، جبکہ اس کی مسلح افواج کی اجازت اور نگرانی کے بغیر کسی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر کی محفوظ آمدورفت ممکن نہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔
آبنائے ہرمز۔ تصویر: آئی این این
ایران کے ’’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز‘‘ نے جمعرات کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے امریکی دعووں کو’’بے بنیاد جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ اہم آبی گزرگاہ بدستور تہران کے کنٹرول میں ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (IRIB) کے مطابق فوجی کمانڈ نے ایک بیان میں کہا، ’’آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی معمول کے مطابق آمدورفت سے متعلق امریکا کے جھوٹے دعوے، جو اس ملک کی فوجی بے بسی اور الجھن کی عکاسی کرتے ہیں، محض غلط بیانی اور بے بنیاد جھوٹ ہیں۔‘‘ ترجمان نے کہا، ’’آبنائے ہرمز پہلے کی طرح اب بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے مکمل انتظام اور کنٹرول میں ہے۔‘‘ ترجمان نے مزید کہا، ’’کوئی بھی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر ایران کی طاقتور مسلح افواج کی اجازت اور نگرانی کے بغیر آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر نہیں سکتا اور نہ ہی گزر سکے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سورج گہن کے بعد ’آنکھوں میں درد‘ کی گوگل سرچز میں ۵؍ ہزار فیصد اضافہ
واضح ہو کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کئی مہینوں سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی ترسیل کیلئے اس راستے کی غیر معمولی اہمیت ہے۔
آبنائے ہرمز اپنی جنگی حکمت عملی کیلئے بھی اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے پر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ایران ماضی میں متعدد مرتبہ واضح کر چکا ہے کہ خطے میں کسی بڑے فوجی تنازع کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز کو اپنے دفاعی مفادات کیلئے استعمال کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس اہم سمندری راستے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر زور دیتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا فلسطین کے قیام کیلئے ’پُرعزم‘ حمایت جاری رکھنے کا اعلان
تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق ایران اور امریکہ کے مؤقف میں واضح تضاد موجود ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج آبی گزرگاہ کی نگرانی اور انتظام کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ واشنگٹن کے دعوے اس کے برعکس صورتِ حال پیش کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کے مزید بڑھنے اور عالمی توانائی کی سپلائی پر ممکنہ اثرات کے خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔