• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ مسلط ہوئی تو بھی ایران جوہری افزودگی ترک نہیں کرے گا: ایران کا دوٹوک مؤقف

Updated: February 08, 2026, 10:09 PM IST | Tehran

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط بھی ہوجائے تب بھی ان کا ملک یورینیم کی افزودگی کا عمل ترک نہیں کرے گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوجوں کی تعیناتی ایران کو خوفزدہ نہیں کرسکتی، ساتھ ہی زور دیا کہ کسی طاقت کو ایران کی جوہری پالیسی پر حکم چلانے کا حق نہیں ہے۔

US envoy Steve Witkoff (right), Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi (left). Photo: PTI.
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف ( دائیں)، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی(بائیں)۔ تصویر: پی ٹی آئی۔

 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار۸؍ فروری کو اعلان کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے درمیان تہران خلیج میں امریکی بحری فوج کی تعیناتی سے خوفزدہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ عراقچی نے یہ تبصرے اس وقت کیے جب امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے سنیچر ۷؍ فروری کو خطے میں امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کا دورہ کیا۔ جبکہ دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نےوٹکوف کے دورے سے ایک دن قبل عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر دو بار بالواسطہ بات چیت کی۔بعد ازاں  عراقچی نے کہا، ’’خطے میں امریکی فوجی تعیناتی ہمیں نہیں ڈراسکتی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے یورینیم افزودگی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا، چاہے تہران پر جنگ بھی مسلط کر دی جائے۔عراقچی نے تہران میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ایران نے اپنے پرامن جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے لیے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہم افزودگی پر اتنا اصرار کیوں کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے سے انکار کیوں کرتے ہیں چاہے ہم پر جنگ مسلط بھی کر دی جائے؟ اس لیے کہ ہمارے رویے پر حکم چلانے کا کسی کو حق نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو نے ۷؍ اکتوبر ۲۳ء ناکامی کی ذمہ داری پھر نہیں لی، الزام فوج پر

اس دوران، ایرانی صدر نے کہا کہ’’ بات چیت ہمیشہ پرامن حل کے لیے تہران کی حکمت عملی رہی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ ایران امریکی دباؤ کے درمیان طاقت کی زبان برداشت نہیں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ ’’پرامن حل کے لیے بات چیت ہمیشہ ایران کی حکمت عملی رہی ہے۔  ایرانی قوم نے ہمیشہ احترام کا احترام سے جواب دیا ہے، لیکن وہ طاقت کی زبان برداشت نہیں کرتی۔‘‘اس سے قبل سنیچر ۷؍ فروری کو، عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی علاقے پر حملہ کیا تو تہران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔انہوں نے کہا، ’’اگر واشنگٹن ہم پر حملہ کرتا ہے تو امریکی علاقے پر حملے کی کوئی امکان نہیں ہے، لیکن ہم خطے میں ان کے اڈوں پر حملہ کریں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’میزائل مذاکرات کا موضوع نہیں ہیں کیونکہ وہ ایک دفاعی مسئلہ ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK