• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی فوجی دباؤ میں کمی پر ایران سات دن میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول سکتا ہے

Updated: September 22, 2026, 7:45 PM IST | New Delhi

ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے، بشرطیکہ امریکہ اپنے فوجی دباؤ میں کمی کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہو۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے یہ بات کہی، جس سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی کی ممکنہ راہ ہموار ہونے کا اشارہ ملا ہے۔

Strait Of Hormuz.Photo:INN
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این

ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے، بشرطیکہ امریکہ اپنے فوجی دباؤ میں کمی کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہو۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے منگل کو یہ بات کہی، جس سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی مذاکرات کی بحالی کی ممکنہ راہ ہموار ہونے کا اشارہ ملا ہے۔عہدیدار نے کہا کہ واشنگٹن کو پہلے سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل کرنے کے لیے باضابطہ طور پر عہد کرنا ہوگا اور مذاکرات کے لیے ایک ٹائم ٹیبل پر اتفاق کرنا ہوگا۔
عہدیدار کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود ایران کے وفد کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں ثالث کسی معاہدے کی شرائط پر بات چیت شروع کر سکتے ہیں، جس کا مقصد لڑائی کا خاتمہ ہوگا۔ تہران نے ۱۶؍ ستمبر کو ہی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو اپنی تجویز بھیج دی تھی۔
عہدیدار نے کہاکہ ’’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی امریکہ کے لیے سفارت کاری کی طرف واپس آنے کا سنہری موقع ہے۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن ٹھوس اقدامات کرتا ہے تو ایران دوبارہ مذاکرات کا خیرمقدم کرے گا۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے منگل کو تہران سے نیویارک روانہ ہوئے۔ عہدیدار نے کہا کہ پیزشکیان کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں ہوگی۔
یہ بیان اتوار کو ایران کی فوجی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اسے اطلاع دی گئی ہے کہ امریکہ علاقائی ممالک کی حمایت سے فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:شہزادی ڈائنا کی آخری رسومات سے متعلق دعویٰ تنازع کا مرکز بن گیا

ایرانی کمان نے مزید خبردار کیا تھا کہ کسی بھی نئے حملے کا ایران  بغیر کسی پابندی اور مصلحت کے  جواب دے گا۔ شپنگ اینالیٹکس کمپنی کیلپر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں بدستور انتہائی کم ہے۔ پیر کو صرف دو مال بردار جہاز آبنائے سے گزر سکے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد ۱۰؍ تھی۔ ان میں پاناما کے پرچم والا سپرامیکس اور لائبیریا کے پرچم والا بلک کیریئر شامل تھا۔
بحری انٹیلی جنس فرم میریسکس کے مطابق آبنائے سے گزرتے ہوئے دو دیگر جہاز الگ الگ واقعات میں نشانہ بنے۔ پیر کو آئل آف مین کے پرچم والے خام تیل کے ٹینکرایل آر اسٹیفنی  کو آبنائے میں داخل ہوتے وقت نامعلوم سمت سے داغے گئے ایک پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا، جس میں عملے کے دو ارکان معمولی زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل لائبیریا کے پرچم والے ایل پی جی ٹینکر ال مریہ  کو آبنائے سے نکلتے وقت نشانہ بنایا گیا تھا۔دونوں جہاز اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہے اور انہیں کھینچ کر لے جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ میریسکس نے کہا کہ حملوں کی ذمہ داری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور دونوں جہاز ایران کی جانب سے خلیج فارس کے آبنائے سے متعلق عوامی طور پر جاری کی گئی غیر تعمیلی جہازوں کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھے۔
کیلپر نے خبردار کیا کہ اس کے اعداد و شمار میں ایسے جہاز شامل نہیں ہیں جو ممکنہ طور پر اپنی نقل و حرکت چھپانے کے لیے خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) کے ٹرانسپونڈر بند کر چکے ہوں۔۲۸؍ فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً ۱۲۵؍ بڑے تجارتی جہاز گزرتے تھے، جن میں آئل ٹینکر، گیس بردار جہاز، بلک کریئر اور کنٹینر جہاز شامل تھے۔ اس آبی راستے سے دنیا کی یومیہ خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا تقریباً ۲۰؍ فیصد گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:خواتین کی کرکٹ ٹیم نے ہندوستان کو ایشین گیمز میں پہلا طلائی تمغہ دلایا

بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع آبنائے باب المندب کے راستے بحری آمدورفت نسبتاً مستحکم رہی۔ پیر کو۲۶؍ جہاز اس آبنائے سے گزرے، جو ایک روز قبل کی تعداد کے برابر ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امکان نے توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایرانی تجویز کے بعد خلیجی ممالک سے توانائی کی سپلائی میں اضافے کے امکان کا جائزہ لیتے ہوئے تاجروں نے منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت کو دو ہفتے کی کم ترین سطح تک گرتے دیکھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK