Updated: March 19, 2026, 8:07 PM IST
| Tehran
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات غیر معمولی واقعات کی صورت میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فضائی حدود کی بندش کے باعث ایک پرواز کو ۹۱۰۰؍ کلومیٹر کا اضافی چکر لگا کر لوٹنا پڑا۔ دوسری جانب ایران میں انٹرنیٹ طویل بلیک آؤٹ کے بعد مختصر طور پر بحال ہوا، تاہم بعد میں دوبارہ بند کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیکوریٹی وجوہات کے تحت کئے جا رہے ہیں۔
(۱) فینٹم فلائٹ، ایران جنگ کے باعث ۹۱۰۰؍ کلومیٹر کا غیر معمولی بے مقصد چکر
ایران جنگ کے باعث فضائی حدود میں پابندیوں کے نتیجے میں ایک مسافر طیارے کو ۹۱۰۰؍ کلومیٹر کا غیر معمولی چکر لگا کر واپس اپنے اصل مقام پر لوٹنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق یہ پرواز یورپ سے ایشیا جا رہی تھی، تاہم ایران اور مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث طیارے کو راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ ایئرلائن حکام نے کہا کہ ’’ہم نے مسافروں کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل راستہ اختیار کیا، تاہم بالآخر طیارے کو واپس لوٹنا پڑا۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ ’’فضائی حدود کی بندش کے باعث پرواز جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔‘‘ اس غیر معمولی پرواز کو ’’فینٹم فلائٹ‘‘ قرار دیا گیا کیونکہ یہ طویل سفر کے باوجود اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکی۔ یہ واقعہ جنگ کے باعث عالمی فضائی سفر پر پڑنے والے اثرات کی ایک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہمیں نیٹو کیساتھ کی ضرورت نہیں ہے : ڈونالڈ ٹرمپ
(۲) ایران میں ۴۴۴؍ گھنٹے کے بعد انٹرنیٹ بحال، پھر دوبارہ بند
ایران میں طویل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے بعد خدمات مختصر طور پر بحال کی گئیں، تاہم کچھ ہی دیر بعد دوبارہ منقطع کر دی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق ملک میں تقریباً ۴۴۴؍ گھنٹے تک انٹرنیٹ بند رہا، جس کے بعد محدود پیمانے پر رسائی بحال کی گئی۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’یہ اقدامات قومی سلامتی کے پیش نظر کئے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ضرورت کے مطابق سروسز کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔‘‘ انٹرنیٹ کی بندش کے دوران شہریوں اور کاروباری اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگی حالات کے باعث معلومات کے بہاؤ اور مواصلاتی نظام پر سخت کنٹرول کیا جا رہا ہے۔