Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس کا فلوٹیلا کارکنوں پر اسرائیلی حملے کے بعد یورپی یونین سے پابندی کا مطالبہ

Updated: May 27, 2026, 5:05 PM IST | Paris

فرانس نے غزہ فلوٹیلا کے امدادی کارکنوں پر اسرائیلی حملے کے بعد یورپی یونین سے اسرائیل پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، وزیر اعظم نے کہا کہ یورپی یونین کے فریم ورک کے دائرے میں رہ کر سخت اقدام اٹھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔

Israeli minister misbehaving with Gaza workers. Photo X
اسرائیلی وزیر غزہ کارکنوں کے ساتھ بد تمیزی کرتے ہوئے۔ تصویرایکس

 فرانس نے منگل کو غزہ کے لیے  امداد لے کر جانے والے بحری قافلے کے اراکین پر ہونے والے اسرائیلی تشدد کے بعد یورپی یونین سے سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ ایک سینئر وزیر نے کہا کہ یورپی یونین کے فریم ورک کے اندر کارروائی کرنا ضروری ہے۔بعد ازاں وزیرِ اعظم سیباسٹین لیکورنو نے قومی اسمبلی میں کہا، ’’یورپی یونین کے فریم ورک میں پابندیوں کے ساتھ آگے بڑھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک ملک ہونے کے ناطے فرانس کا قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کے ساتھ جوابی کارروائی نہ کر ناقابلِ تصور ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’ کہ کچھ لوگ اس کا احترام نہیں کرتے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی اس کا احترام کرنے میں ناکام رہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: فلوٹیلا کارکنوں سے اسرائیلی سلوک کے خلاف پارلیمنٹ پر مظاہرین کا دھاوا

واضح رہے کہ گزشتہ پیر کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندرمیں غزہ کے لیے جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا کے انسانی بحری قافلے پر حملہ کیا۔ قافلے کی براہِ راست نشریات میں اسرائیلی بحری افواج کو ہر جہاز کو روکتے ہوئے دکھایا گیا۔تاہم پابندیوں کا یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ایک ویڈیو فو ٹیج گردش کرنے لگی جس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا اہم اتحادی اتمار بین گویر کو ہاتھ پیچھے بندھے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے کارکنوں کے درمیان چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس فوٹیج میں بین گویر اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور قیدیوں کو طعنے دیتے نظر آ رہا ہے۔۵۰؍ سے زیادہ کشتیوں پر مشتمل یہ قافلہ گزشتہ جمعرات کو ترکی کے بحیرہ روم کے ضلع مرماریس سے روانہ ہوا تھا تاکہ غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی (جو۲۰۰۷ء کی گرمیوں سے جاری ہے) کو توڑنے کی ایک نئی کوشش کی جا سکے۔قافلے کے مطابق اس مشن میں۴۲۶؍ شرکاء تھے جن میں۹۶؍ ترک کارکن اور۳۹؍ دیگر ممالک (جرمنی، امریکہ، ارجنٹائن، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، الجیریا، انڈونیشیا، مراکش، فرانس، جنوبی افریقہ، برطانیہ، آئرلینڈ، سپین، اٹلی، کینیڈا، مصر، پاکستان، تیونس، عمان اور نیوزی لینڈ) کے شرکاء شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کے وزیر اعظم کا اسرائیلی صدر سے فلوٹیلا واقعے کی تحققات کا مطالبہ

۲۹؍ اپریل کو اسرائیلی افواج نے یونان کے جزیرے کریٹ کے ساحل کے قریب غزہ کے لیے جانے والے ایک اور امدادی مشن پر حملہ کیا۔ منتظمین نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانی میں کارکنوں کو لے جانے والی کشتیوں کو روکا،۱۷۷؍ کارکنوں کو حراست میں لیا اور غزہ سے تقریباً ۶۰۰؍بحری میل کے فاصلے پر جو یونانی علاقائی پانی سے کئی میل دور تھا ،ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK