ضلع کلکٹر کی سیاسی جماعتوں اور انتخابی افسران کے ساتھ اہم میٹنگ، قصورواروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا انتباہ۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 3:07 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
ضلع کلکٹر کی سیاسی جماعتوں اور انتخابی افسران کے ساتھ اہم میٹنگ، قصورواروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا انتباہ۔
خصوصی ووٹر فہرست نظرِ ثانی (ایس آئی آر ) مہم کے دوران ضلع کلکٹر ڈاکٹر شری کرشن پانچال نے انتخابی افسران اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ الگ الگ جائزہ میٹنگ منعقد کرتے ہوئے ووٹر فہرست کی تیاری میں شفافیت پر زور دیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ درخواستی فارموں کی تقسیم یا جمع آوری میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، لاپروائی یا ہیرا پھیری برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسی شکایات درست پائے جانے پر متعلقہ افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: سونم وانگ چک سے بات چیت پر زور
میونسپل کارپوریشن میں منعقدہ میٹنگ میں ضلع کلکٹر نے بتایا کہ مسلسل بارش اور کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے مہم کے ابتدائی مرحلے میں رفتار سست رہی تاہم ۹؍جولائی کے بعد کام میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے تمام بی ایل اوز کو ہدایت دی کہ وہ گھر گھر پہنچ کر ووٹروں کو فارم فراہم کریں، وہیں ان سے فارم بھروا کر حاصل کریں اور الیکشن کمیشن کی ہدایات پر مکمل دیانت داری کے ساتھ عمل کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی سخت برہمی ظاہر کی کہ بعض مقامات پر فارم سیاسی جماعتوں کے دفاتر میں رکھنے یا ان کے غائب ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ہر پولنگ بوتھ پر اپنے مجاز نمائندے مقرر کریں، عوام میں مہم کے تعلق سے بیداری پیدا کریں اور اگر کہیں کوئی خامی یا اعتراض ہو تو فوری طور پر انتخابی حکام کے علم میں لائیں تاکہ ووٹر فہرست کی تیاری کا عمل شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: زیر تعمیر ٹنکی سے ۱۲؍ فٹ لمبا لوہے کا چینل بائیک سوار پر گرا
ضلع کلکٹر نے یہ بھی یقین دلایا کہ معذور ووٹروں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئے گی کیونکہ بی ایل او ان کے گھروں تک پہنچ کر فارم بھرنے میں مدد کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ مہم کو مزید مؤثر بنانے کے لئے آشا ورکرس، آنگن واڑی سیوکاؤں اور دیگر سرکاری ملازمین کو معاون بی ایل او کی ذمہ داری دی جائے گی جبکہ انہیں اضافی اعزازیہ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ نظرِ ثانی کا کام مقررہ مدت میں مکمل ہو سکے۔