Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ-ایران جنگ ۱۲ ویں دن میں داخل: ایران کا کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملہ، اموات میں اضافہ

Updated: July 23, 2026, 7:10 PM IST | Washington/Tehran

ایرانی سرکاری میڈیا نے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے حوالے سے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ ایران نے کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ آئی آر جی سی نے ان حملوں کو امریکہ کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کا مقصد کویتی یا اردنی عوام کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔

Donald Trump and Masoud Pezeshkian. Photo: X
مسعود پیزشکیان اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے بدھ کے روز ایران پر مسلسل ۱۲ ویں رات بھی فضائی حملے کئے۔ عراق کے ساتھ شلمچہ سرحدی کراسنگ پر کئے گئے ایک امریکی حملے میں کم از کم ۲ افراد شہید اور ۱۱ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق، ۶ جولائی سے اب تک امریکی حملوں میں ۵۳ ایرانی شہری شہید ہوچکے ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے حوالے سے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ ایران نے کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ آئی آر جی سی نے ان حملوں کو امریکہ کے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کا مقصد کویتی یا اردنی عوام کو نشانہ بنانا نہیں ہے۔ کویت کی مسلح افواج نے ایکس پر تصدیق کی کہ اس کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے جمعرات کو ”دشمنانہ ڈرون خطرات“ کا جواب دیا، جبکہ اردن نے بھی اسی دن نئے ایرانی حملوں کی تصدیق کی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں: مارکو روبیو

روبیو کا دعویٰ: ’ایران معاہدے کیلئے گڑ گڑا رہا ہے‘

بدھ کے روز منیلا میں آسیان (ASEAN) کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران ”معاہدے کیلئے گڑ گڑا رہا ہے“ لیکن امریکہ کسی ڈیل کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو ”ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے“۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ تہران کو ان اقدامات کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی جو وہ کر رہا ہے۔ جب روبیو سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ اس تنازع کو مزید بڑھائے گا، تو انہوں نے کہا کہ ایران کو قیمت چکانی پڑے گی۔

ایران کا ’اینٹ کا جواب پتھر سے‘ دینے کا عزم

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کی دیر رات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ”ہمارا دفاعی نظریہ واضح ہے: اینٹ کا جواب پتھر۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت، بشمول ہمارے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) پر حملے کا، طاقتور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔“

یہ بھی پڑھئے: اینڈی برنہم نے امریکہ کو فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی

حوثیوں کا سعودی آئل ٹینکرز پر حملے کا دعویٰ

یمن کے حوثی باغیوں نے جمعرات، ۲۳ جولائی کو بتایا کہ انہوں نے باب المندب میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ دعویٰ حوثیوں کے اس سے قبل سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ اس کے بعد باب المندب اور آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹوں کی وجہ سے پہلے سے دباؤ کا شکار عالمی تیل کی سپلائی کی راہوں پر نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

کشیدگی کے درمیان سفارتی کوششیں جاری

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان کچھ سفارتی آوازیں ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے اہلکار مارٹن گریفتھس نے کہا کہ امریکہ-ایران جنگ کو ختم کرنے کیلئے سفارت کاری سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہے۔ پاکستان حالیہ دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے، تاہم ابھی تک کسی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کی معیشت مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے ۱۰؍ارب ڈالر امداد کی اپیل: رپورٹ

دونوں فریقین کے جانی نقصان میں اضافہ

امریکہ اور ایران کے درمیان فروری سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں دونوں فریقین کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ امریکی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم ۱۵ امریکی فوجی ہلاک اور ۵۴۳ دیگر فوجی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے ۲۷ فوجیوں اور ایک ٹھیکیدار کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ ایران نے ہزاروں کی تعداد میں جانی نقصان کی اطلاع دی ہے، جن کے اعداد و شمار مختلف ذرائع سے مختلف ہیں: ایرانی حکومت نے ۳۴۶۸ شہریوں کی شہادت اور ۲۶۵۰۰ افراد کے زخمی ہونے کا ذکر کیا ہے، جبکہ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے ۳۶۳۶ اموات ریکارڈ کی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK