Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے اسرائیلی امریکی حملوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا

Updated: April 02, 2026, 10:07 PM IST | Tehran

ایران جنگ کے دوران بیانات اور الزامات میں شدت آ گئی ہے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دیا جبکہ فوجی دھمکیوں اور سیاسی ردعمل نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ معلوماتی محاذ پر بھی تینوں فریق آمنے سامنے ہیں۔

A picture of the Israeli attack on Tehran: Photo: PTI
تہران پر اسرائیلی حملے کی ایک تصویر: تصویر: پی ٹی آئی

(۱) ایران کا الزام، امریکی اسرائیلی حملے ’’نسل کشی کے برابر‘‘
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو ’’نسل کشی کے برابر‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں عام شہری متاثر ہوئے۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
حکام نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں زخمیوں اور نقصانات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی حکام نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور ذمہ دار فریقوں کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائے گا اور انصاف کا مطالبہ کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: اسرائیل پر میزائل، کویت، بحرین میں ایرانی حملوں سے نقصان

(۲) ایرانی فوج کی دھمکی، مزید وسیع اور تباہ کن حملوں کا عندیہ
ایرانی فوج نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھانے کیلئے تیار ہے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ ’’ہماری اگلی کارروائیاں زیادہ وسیع، زیادہ مضبوط اور زیادہ تباہ کن ہوں گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں جو دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے فوجی یونٹس کو الرٹ کر دیا ہے اور مختلف محاذوں پر تیاری بڑھا دی گئی ہے۔ حکام نے کہا کہ کسی بھی حملے کا جواب فوری اور بھرپور دیا جائے گا اور خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

(۳) ٹرمپ کے بیان پر ایران کا ردعمل، صلاحیتوں پر سوالات کا جواب
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی صلاحیتوں پر سوال اٹھایا تھا۔ ایرانی حکام نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے طنزیہ ردعمل دیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’یہ بات شاید مریخ سے آئی ہوئی لگتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے مکمل اعتماد رکھتا ہے اور کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے میزائل اور دفاعی نظام کی تیاری کو مزید تیز کر دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ ملک کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ خطرناک موڑ پر، عالمی لیڈر متحرک، خلیجی مؤقف میں سختی

(۴) معلوماتی جنگ میں شدت، تینوں ممالک کے بیانات میں تضاد
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان معلوماتی محاذ پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جہاں مختلف بیانات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سرکاری بیانات، میڈیا بریفنگز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ’’یہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ معلومات کے میدان میں بھی لڑی جا رہی ہے۔‘‘ امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کے بعض دعوؤں کو مسترد کیا جبکہ ایران نے بھی مخالف بیانات کو غلط قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق ہر فریق اپنی حکمت عملی کے تحت معلومات کو پیش کر رہا ہے اور بیانیہ مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK