Updated: April 27, 2026, 7:05 PM IST
| Tehran
ایران نے مبینہ طور پر امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ بندی کو مستقل بنانے کی بات شامل ہے جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اس پیشکش پر غور کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرنے والے ہیں، تاہم دونوں جانب سے باضابطہ تصدیق یا معاہدے کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
آبنائے ہرمز۔ تصویر: آئی این این
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک نئی سفارتی پیشکش کے ذریعے جنگ کے خاتمے اور بحری راستوں کی بحالی کی کوشش کی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے ثالث ممالک کے ذریعے امریکہ کو ایک تین مرحلوں پر مشتمل تجویز بھیجی ہے، جس کا مرکزی نکتہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور علاقائی کشیدگی کم کرنا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ دنوں میں پاکستان اور عمان کے دورے کیے، تاہم تہران نے واضح کیا کہ ان دوروں میں امریکی حکام سے کسی براہ راست ملاقات کا ایجنڈا شامل نہیں تھا۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس تجویز پر غور کے لیے اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ سیچویشن روم میں اہم اجلاس کرنے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی نسل کشی کے منکر ہولوکاسٹ کے انکار کرنے والوں سے بھی بدتر: اسرائیلی مصنفہ
تین مرحلوں پر مشتمل مجوزہ معاہدہ
ایرانی تجویز کے مطابق ممکنہ روڈ میپ کچھ یوں ہے:
پہلا مرحلہ:
فوری اور مکمل جنگ بندی، خاص طور پر لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری جھڑپوں کا خاتمہ۔
دوسرا مرحلہ:
امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تجارتی و تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کی بحالی۔
تیسرا مرحلہ:
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حساس مذاکرات کو مؤخر کر کے بعد میں شروع کرنا، جب جنگ بندی مستحکم ہو جائے اور اقتصادی پابندیاں نرم ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق نسل کشی: امریکی اسکالر
وہائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’حساس سفارتی بات چیت‘‘ ہے اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ٹرمپ نے پہلے واضح کیا تھا کہ کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے بحری ناکہ بندی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباش میں ۱۱؍ اور ۱۲؍ اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، لیکن وہ کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ بعد ازاں ایران نے ’’ضرورت سے زیادہ امریکی مطالبات‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بات چیت سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اب روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے موجود ہیں، جہاں اس معاملے پر مزید مشاورت متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائنا یروشلم میں سفارتخانہ منتقل کرنے والا دنیا کا آٹھواں ملک
اہم نکات اور غیر یقینی صورتحال
(۱) ایران فوری جنگ بندی اور اقتصادی دباؤ میں کمی چاہتا ہے۔
(۲) امریکہ جوہری پروگرام پر سخت شرائط برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
(۳) آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
(۴) کسی بھی معاہدے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑی رکاوٹ ہے۔