Updated: April 03, 2026, 5:16 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت کھانا پکانے والی گیس کی کھپت کم کرنے کے لیے اب انڈکشن ہیٹر اور اس سے متعلقہ آلات کی گھریلو پیداوار بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کو صنعت کے فروغ اور داخلی تجارت کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے سکریٹری، بجلی کے سکریٹری اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کے ڈائریکٹر جنرل سمیت اعلیٰ حکام نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔
انڈکشن۔ تصویر:آئی این این
مرکزی حکومت کھانا پکانے والی گیس کی کھپت کم کرنے کے لیے اب انڈکشن ہیٹر اور اس سے متعلقہ آلات کی گھریلو پیداوار بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کو صنعت کے فروغ اور داخلی تجارت کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے سکریٹری، بجلی کے سکریٹری اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) کے ڈائریکٹر جنرل سمیت اعلیٰ حکام نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں ایران جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈکشن ہیٹر اور کھانا پکانے کے آلات کی پیداوار بڑھانے کے اقدامات پر غور کیا گیا، تاکہ کھانا پکانے والی گیس کی کھپت کم کی جا سکے۔
مغربی ایشیا کے بحران کے آغاز کے بعد سے انڈکشن ہیٹر اور دیگر برقی مصنوعات کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایک سینئر افسر کے مطابق، اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو ہندوستان کو ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت طویل مدتی تنازع کے امکان کو دیکھتے ہوئے درآمدات پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ خاص طور پر تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی درآمد میں رکاوٹ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
حکومت پہلے ہی کئی پیٹروکیمیکل مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کم کر چکی ہے، تاکہ سپلائی برقرار رہے اور لاگت کا دباؤ کم کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی بنیادی توجہ ضروری اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانا اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’کافی وِد کرن‘‘ کا سیزن ۹؍ سال آخر میں ریلیز ہوگا
قطر میں ایک بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پلانٹ کو نقصان پہنچنے کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی سپلائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہونے کی حالت میں ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً ۲۰؍ فیصد توانائی کی سپلائی گزرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:باکس آفس پر عمران ہاشمی اور سنی دیول کا مقابلہ ہوسکتاہے
ہندوستان نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے تیل کی درآمد کے ذرائع میں تنوع پیدا کیا ہے اور اب روس کے ساتھ ساتھ نائیجیریا اور انگولا جیسے افریقی ممالک سے زیادہ خام تیل خرید رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی کمپنیاں امریکہ سے بھی گیس حاصل کر رہی ہیں۔ دریں اثنا، مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے خطاب میں کہا کہ امریکی فوج اگلے ۲۔۳؍ ہفتوں میں ایران پر ’’انتہائی سخت حملہ‘‘ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کو ’’پتھر کے دور‘‘ میں پہنچا دے گا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ’’ اس وقت مشرق وسطیٰ میں نہ تیل تھا اور نہ ہی گیس کی پیداوار ہوتی تھی۔‘‘