ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پوپ لیو چہار دہم کے نام ایک پیغام میں سفارتکاری کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا ، ساتھ ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف تنقیدی نقطہ نظر رکھنے پر پوپ کے اخلاقی موقف کی تعریف کی۔
EPAPER
Updated: May 16, 2026, 8:35 PM IST | Tehran
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پوپ لیو چہار دہم کے نام ایک پیغام میں سفارتکاری کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا ، ساتھ ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف تنقیدی نقطہ نظر رکھنے پر پوپ کے اخلاقی موقف کی تعریف کی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے سنیچر کو بتایا کہ ملک کے صدر مسعودپیزشکیان نے پوپ لیو چہاردہم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ’’ ایران سفارت کاری اور پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔‘‘خبر رساں ادارے IRNA کے مطابق،پیزشکیان نے تہران کی جانب سے کیتھولک رہنما کے ایران کے خلاف حالیہ فوجی جارحیت پر اخلاقی اور منطقی مؤقف کی تعریف بھی کی۔صدر نے کہا کہ’’ ایران نے جائز دفاع کے دائرے میں امریکہ اور اسرائیل کے اہداف کو نشانہ بنایا، اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ڈریک نے فلسطین پر خاموش ڈی جے خالد کو تنقید کا نشانہ بنایا، تین البم جاری کئے
واضح رہے کہ ۲۸؍فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملے کیے تب سے علاقائی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے، اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔جس کے جواب میں امریکہ نے بھی آبنائے ہرمز کی دوسری جانب سے ناکہ بندی کردی، جس کے بعد اس آبنائے سے تیل کے ساتھ دیگر اشیاء کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی۔حالانکہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے۸؍ اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوگئی، لیکن اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کو مستقل معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی ہوئی۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا۔اسی دوران پوپ لیو نے امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی تھی، اور امن کا راستہ اپنانے کی اپیل کی تھی۔ پیزشکیان کا حالیہ پیغام پوپ لیو کی انسان دوستی اور منصفانہ ردعمل کا اعتراف ہے۔