ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر کسی بھی حملے کو ایران کے خلاف مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے ملک کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عائد کردہ پابندیوں کو قرار دیا۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 4:03 PM IST | Tehran
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر کسی بھی حملے کو ایران کے خلاف مکمل جنگ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے ملک کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عائد کردہ پابندیوں کو قرار دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی حملہ ایران کے خلاف جنگ کے اعلان کے مترادف ہوگا۔ پزشکیان نےایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہمارے ملک کے عظیم لیڈرپر حملہ ایرانی قوم کے ساتھ مکمل پیمانے کی جنگ کے برابر ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کے عوام کو اپنی زندگیوں میں مشکلات اور سختیوں کا سامنا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ ’’امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد کی گئی دیرینہ دشمنی اور غیر انسانی پابندیاں‘‘ ہیں۔ یہ بیانات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس سے قبل پولیٹیکو کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے بعد سامنے آئے، جس میں انہوں نے خامنہ ای کو’ایک بیمار شخص‘ قرار دیا اور کہا کہ ایران ’رہنے کیلئے بدترین جگہ‘ ہے اور اب ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں نئی قیادت کا وقت آگیا ہے، ٹرمپ، خامنہ ای کو’بیمار شخص‘ قرار دیا
خامنہ ای نے بھی سنیچرکو کہا تھا کہ ملک بھر میں حالیہ احتجاج کے دوران ہونے والے جانی نقصانات اور تباہی کے پیچھے ٹرمپ ’اصل مجرم‘ ہیں۔ معاشی صورتحال کی بگڑتی حالت اور قومی کرنسی ریال کی ریکارڈ حد تک قدر میں کمی کے خلاف حکومت مخالف مظاہرے گزشتہ ماہ کے آخر میں تہران میں شروع ہوئے اور آہستہ آہستہ ایران کے دیگر شہروں تک پھیل گئے۔ ۸؍ جنوری کو یہ احتجاج اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گئے جب سابق ایرانی بادشاہ کے امریکا میں مقیم بیٹے نے عوام سے حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔