• Sun, 18 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں نئی قیادت کا وقت آگیا ہے، ٹرمپ، خامنہ ای کو’بیمار شخص‘ قرار دیا

Updated: January 18, 2026, 4:01 PM IST | Washington

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر متضاد بیانات دیتے ہوئے پہلے سزائے موت منسوخ کرنے پر خامنہ ای کی تعریف کی، پھر ان کی۳۷؍ سالہ حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

Donald Trump and Khamenei. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ اور خامنہ ای۔ تصویر: آئی این این۔

ایران کی قیادت کیلئے احترام کا اظہار کرنے اور۸۰۰؍ سے زائد‘ سزائے موت منسوخ کرنے پر اس کا شکریہ ادا کرنے کے ایک دن بعد، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچرکو آیت اللہ علی خامنہ ای کی۳۷؍ سالہ حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایرانی لیڈر کو’ایک بیمار شخص‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے POLITICO کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی قیادت تلاش کی جائے، ‘‘یہ بات ایسے وقت میں کہی گئی جب حکومت کے خاتمے کے مطالبے پر ہونے والے وسیع پیمانے کے احتجاج بظاہر کمزور پڑ چکے ہیں۔ ملک بھر میں گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہزاروں مظاہرین مارے گئے، جس کے بعد ٹرمپ نے بارہا ایران میں فوجی مداخلت کی دھمکیاں دیں۔ منگل کو ٹرمپ نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے اور’اداروں پر قبضہ کرنے‘ کی اپیل کی اور کہا کہ ’مدد راستے میں ہے۔ ‘تاہم، اگلے ہی دن ٹرمپ نے اچانک اپنا مؤقف بدل لیا اور کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ہلاکتیں رک گئی ہیں۔ 
سنیچر کوجب ان سے ایران میں ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے حجم کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے کہا:’’انہوں نے اب تک کا سب سے بہترین فیصلہ دو دن پہلے ۸۰۰؍سے زیادہ لوگوں کو پھانسی نہ دینے کا کیا۔ ‘‘’ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا:’’میں اس حقیقت کا بہت احترام کرتا ہوں کہ تمام طے شدہ پھانسیاں، جو کل ہونے والی تھیں، ایران کی قیادت نے منسوخ کر دی ہیں۔ شکریہ!‘‘

یہ بھی پڑھئے: سوڈان میں خوراک مارچ کے اختتام تک ختم ہونے کا خدشہ: اقوامِ متحدہ کی وارننگ

خامنہ ای نے ٹرمپ کو ’مجرم‘ قرار دیا
ٹرمپ کے سنیچر کے بیانات اس کے فوراً بعد سامنے آئے جب خامنہ ای کے ایکس اکاؤنٹ پر سخت اور جارحانہ پیغامات شائع کئے گئے، جن میں امریکی صدر کو ایران میں مہلک تشدد اور بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ خامنہ ای نے لکھا:’’ہم امریکی صدر کو ایرانی قوم پر مسلط کی گئی ہلاکتوں، نقصانات اور بہتان کا مجرم سمجھتے ہیں۔ ‘‘ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے پرتشدد گروہوں کو ایرانی عوام کا نمائندہ بنا کر پیش کیا، جسے انہوں نے’انتہائی شرمناک بہتان‘ قرار دیا۔ خامنہ ای نے اس الزام کو بھی دہرایا کہ امریکہ ایران کے معاشی اور سیاسی وسائل پر غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو امریکہ کے ’پیادہ سپاہی ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مساجد اور تعلیمی مراکز کو تباہ کیا۔ خامنہ ای نے کہا ’’لوگوں کو نقصان پہنچا کر انہوں نے کئی ہزار افراد کو قتل کیا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے ڈونالڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا

تہران کے حکمران حکومت چلانےکیلئے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں: ٹرمپ
خامنہ ای کی پوسٹس سنائے جانے کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے حکمران اقتدار برقرار رکھنے کیلئےجبر اور تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا:’’ایک ملک کے لیڈرکے طور پر وہ جس چیز کے مجرم ہیں، وہ ملک کی مکمل تباہی اور اس حد تک تشدد کا استعمال ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ملک کو چلانے کیلئے چاہے وہ انتہائی کمزور حالت میں ہی کیوں نہ ہو، قیادت کو چاہئے کہ وہ اپنے ملک کو درست طریقے سے چلانے پر توجہ دے، جیسے میں امریکہ کو چلاتا ہوں، نہ کہ کنٹرول برقرار رکھنے کیلئے ہزاروں لوگوں کو قتل کرے۔ ‘‘ٹرمپ نے کہا:’’قیادت کا مطلب احترام ہے، خوف اور موت نہیں۔ ‘‘ٹرمپ نے ذاتی نوعیت کے حملے کرتے ہوئے خامنہ ای اور ایرانی نظام حکومت کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا:’’یہ شخص ایک بیمار آدمی ہے جسے اپنا ملک درست طریقے سے چلانا چاہئے اور لوگوں کو قتل کرنا بند کرنا چاہئے۔ غلط قیادت کی وجہ سے ان کا ملک دنیا میں رہنے کیلئے بدترین جگہ ہے۔ ‘‘
یہ بیانات واشنگٹن اور تہران کے درمیان سخت ہوتی ہوئی بیان بازی کی عکاسی کرتے ہیں، ایسے نازک وقت میں جب خطہ پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے، اور جب خامنہ ای نے حالیہ عوامی خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ’ایرانی قوم نے امریکہ کو شکست دے دی ہے۔ ‘ایرانی حکام نے ٹرمپ کے تازہ بیانات پر فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ ٹرمپ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے جب گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران میں ہزاروں مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK