Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے عارضی جنگ بندی مسترد کر دی، امریکہ-ایران جنگ میں شدت کے درمیان جوابی کارروائی کا انتباہ

Updated: August 19, 2026, 9:00 PM IST | Tel Aviv/Washington

فنانشل ٹائمز نے دو نامعلوم اندرونی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کے جنگ کو مزید آگے بڑھانے کے امکان کے پیش نظر، ایرانی افواج نے یورپ میں امریکی اثاثوں پر حملہ کرنے کے امکان کا جائزہ لیا ہے۔ ممکنہ اہداف میں مبینہ طور پر بلغاریہ کا بیزمر (Bezmer) ایئر بیس، قبرص میں موجود تنصیبات اور آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز شامل ہیں۔ اس رپورٹ کے جواب میں، نیٹو (NATO) کے ایک اہلکار نے کہا کہ اتحاد کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور اپنے ارکان کے دفاع کیلئے ضروری اقدامات کرے گا۔

Donald Trump and Masoud Pezeshkian. Photo: X
مسعود پزشکیان اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیان دیا ہے کہ تہران، امریکہ کے ساتھ مزید کسی عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے، انہوں نے تقریباً ۶ ماہ سے جاری جنگ کے مستقل خاتمے پر اصرار کیا۔ عراقچی نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کو بتایا کہ ”ہم نے ثالثوں کو بتا دیا ہے کہ ہم جنگ بندی قبول نہیں کریں گے؛ اس جنگ کو ختم ہونا چاہئے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمارا کہنا ہے کہ کہ جنگ کو اس طرح ختم ہونا چاہئے کہ یہ دوبارہ نہ دہرائی جائے۔“

عراقچی نے خلیجی خطے میں ایسے اجتماعی سیکوریٹی انتظامات کا مطالبہ کیا جن میں معاشی پہلو بھی شامل ہوں۔ انہوں نے قطر اور پاکستان کی جانب سے ادا کئے جانے والے ثالثی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔ عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے مخالفین نے حکومت کی تبدیلی، تقسیم اور اندرونی بے چینی کے ذریعے اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ اپنی کوششوں میں ”مایوس“ اور ”ناکام“ رہے۔

 دوسری طرف، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوئی ٹائم لائن نہیں ہے۔ انہوں نے منگل کو اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کے ساتھ ”کوئی بات چیت یا گفتگو نہیں ہو رہی ہے اور نہ ہی طے شدہ ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے آئی سی سی کی صدر اور سنیئر وکیل پر پابندیاں عائد کیں، شدید ردعمل

قالیباف کی بیسنٹ اور ہیگستھ پر سخت تنقید

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ پر سخت تنقید کی اور ان پر اس تنازع میں اپنی ”بساط سے باہر جانے“ کا الزام لگایا۔ قالیباف نے ایکس پر لکھا، ”امریکی سوچتے ہیں کہ ایران پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے ایسی رعایتیں مل جائیں گی جو کبھی معاہدے کا حصہ ہی نہیں تھیں۔“ انہوں نے بیسنٹ کی جانب سے ایران کی ”معاشی تنہائی“ کے حصول کے مقصد سے دی گئی ”پہلے کبھی نہ دیکھی گئی“ پابندیوں کی حالیہ دھمکی کا حوالہ دیا۔ قالیباف نے امریکہ پر زور دیا کہ ”جوکروں کے اس ٹولے کی طرف سے ٹوپی سے خرگوش نکالنے کا انتظار بند کریں اور اپنے پھیلائے گئے رائتے کو سمیٹیں۔“ انہوں نے اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پر بڑے پیمانے پر حملوں کی دھمکیوں اور نئے سرے سے مذاکرات کے دعووں کے درمیان گھومتی ہوئی ”سفارتی تھیٹر“ چلانے کا الزام لگایا تھا۔

ایک سینئر ایرانی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ مستقل معاہدے کے حصول کی کوششوں میں تعطل کے بعد تہران نے ”مکمل جارحانہ“ فوجی پوزیشن کی طرف بڑھنا شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جرمن وائس چانسلر کا اتمار بن گویر پر یورپی یونین سے پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

ایران یورپ میں امریکی اثاثوں پر حملوں پر غور کر رہا ہے: رپورٹ

فنانشل ٹائمز نے دو نامعلوم اندرونی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ٹرمپ جنگ کو مزید آگے بڑھاتے ہیں تو ایرانی افواج نے یورپ میں امریکی اثاثوں پر حملہ کرنے کے امکان کا جائزہ لیا ہے۔ ممکنہ اہداف میں مبینہ طور پر بلغاریہ کا بیزمر (Bezmer) ایئر بیس شامل ہے، جسے گزشتہ ماہ امریکی طیاروں کیلئے ایندھن بھرنے والے پوائنٹ کے طور پر منظور کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی قبرص میں موجود تنصیبات جہاں تنازع کے اوائل میں ایک برطانوی فضائی اڈے پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا اور آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز شامل ہیں۔ اس رپورٹ کے جواب میں، نیٹو (NATO) کے ایک اہلکار نے کہا کہ اتحاد کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور اپنے ارکان کے دفاع کیلئے ضروری اقدامات کرے گا۔

امن معاہدے کی امیدیں مدہم، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ٹرمپ نے بدھ کو بیان دیا ہے کہ وہ ۶۰ روزہ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے امکانات مدہم پڑ گئے ہیں۔ اس کے چلتے بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے ملا۔ برینٹ کی قیمت تقریباً ۹۲ ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت ۸۵ ڈالر سے اوپر پہنچ گئی۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ تیل کی مسلسل بلند قیمتیں سرمایہ کاروں کے خدشات کو بڑھا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہند رجب فاؤنڈیشن کی ہندوستان آنے والے اسرائیلی فوجی کےخلاف جنگی جرائم کی شکایت

ایران کی خلیجی ریاستوں کو وارننگ

ایران کی مسلح افواج نے بدھ کے روز خلیجی ممالک کو اسلامی ملک کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں مدد کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی حمایت کو تنازع میں شرکت سمجھا جائے گا۔ ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے کہا کہ ”جارح امریکی فوج کو فراہم کی جانے والی کوئی بھی مدد یا سہولت امریکی فوجی کارروائی میں شرکت کے مترادف ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی اڈوں پر بڑی تعداد میں فوجی طیاروں، بالخصوص ایندھن بھرنے والے طیاروں کی موجودگی کا میزبان حکومتوں کے علم کے بغیر ہونا بعید از قیاس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK