ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیج فارس میں امریکی موجودگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے نئے انتظامی و قانونی نظام کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں استحکام، ترقی اور معاشی فوائد کے نئے دور کا آغاز کریں گے۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 1:05 PM IST | Tehran
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیج فارس میں امریکی موجودگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے نئے انتظامی و قانونی نظام کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں استحکام، ترقی اور معاشی فوائد کے نئے دور کا آغاز کریں گے۔
ایران کے سپریم لیڈر نے جمعرات کو کہا کہ خلیج فارس کا مستقبل ’امریکی موجودگی کے بغیر‘ ہوگا، اور اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کیلئے نئے قانونی اور انتظامی ڈھانچے خطے میں استحکام اور معاشی فوائد لائیں گے۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری تحریری بیان میں، جو فارس خلیج نیشنل ڈے کے موقع پر جاری کیا گیا، کہا گیا کہ امریکہ سمیت غیر ملکی طاقتوں کی موجودگی خطے میں عدم استحکام کا باعث رہی ہے اور اب ایک ’نیا دور‘ شروع ہو رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس علاقائی شناخت اور عالمی معاشی رابطوں کا ایک اہم حصہ ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے ذریعے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کی سکیوریٹی کو نئے انتظامات کے ذریعے یقینی بنائے گا، جن میں اپ ڈیٹ شدہ قانونی ڈھانچے بھی شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی، گرفتار کارکنان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ
ان کے مطابق یہ نئے فریم ورک خطے کے تمام ممالک کیلئے استحکام، ترقی اور معاشی فوائد لائیں گے۔ سپریم لیڈر نے کہا کہ خلیج فارس کے ممالک ایک مشترکہ مستقبل رکھتے ہیں اور بیرونی عناصر، جو ’ہزاروں کلومیٹر دور‘ ہیں، اس خطے کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں رکھتے۔ بیان میں ایک ’نئے علاقائی نظام‘ کے ابھرنے کا بھی ذکر کیا گیا جو حالیہ پیش رفت سے جنم لے رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والی ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس سے آبنائے ہرمز میں شپنگ اور توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ جنگ ۶۰؍ روزہ ڈیڈ لائن سے پہلے ’ختم‘ ہوگئی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ
۸؍اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی اب تک برقرار ہے جبکہ وسیع تر معاہدے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جن میں سمندری راستوں اور آبنائے ہرمز کی سکیوریٹی پر بات چیت بھی شامل ہے۔ ایران نے۲۰۰۵ء میں ۳۰؍ اپریل کو فارس خلیج نیشنل ڈے قرار دیا تھا، جو صفوی دور میں آبنائے ہرمز سے پرتگالی افواج کے اخراج کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ۹؍مارچ کو سپریم لیڈر منتخب کیا گیا، جب ان کے والد علی خامنہ ای۲۸؍ فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے۔ وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد صرف تحریری بیانات کے ذریعے رابطہ کر رہے ہیں۔