امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران سے جنگ کو جنگ بندی کے بعد ختم قرار دے کر ایک نئی قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مؤقف پر کانگریس اور ماہرینِ قانون کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں، جس سے سیاسی تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 10:03 AM IST | Washington
امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران سے جنگ کو جنگ بندی کے بعد ختم قرار دے کر ایک نئی قانونی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مؤقف پر کانگریس اور ماہرینِ قانون کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں، جس سے سیاسی تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے باعث ’ختم‘ ہو چکی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اس قانونی تشریح کا مقصد وہائٹ ہاؤس کو اس ضرورت سے بچانا ہے جس کے تحت اسے کسی بھی فوجی کارروائی کیلئے امریکی کانگریس سے باقاعدہ منظوری لینا پڑتی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ میں اس موقف کی تائید کی کہ جنگ بندی نے مؤثر طریقے سے جنگ کو روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کو جان کی دھمکی کا الزام،ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹرجیمزکومی کی خود سپردگی
اس منطق کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ وہ۱۹۷۳ء کے ’وار پاورز ریزولوشن‘ کی خلاف ورزی نہیں کر رہی جو صدر کو پابند کرتا ہے کہ وہ۶۰؍ دن سے زائد جاری رہنے والی کسی بھی فوجی کارروائی کیلئے کانگریس سے رجوع کرے۔ ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی نیوز کو بتایا کہ۲۸؍ فروری کو شروع ہونے والی جنگ اب ختم ہو چکی ہے کیونکہ سات اپریل سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد دونوں افواج کے درمیان فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران نے اب بھی آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے اور امریکی بحریہ نے ایرانی تیل کے ٹینکرز روکنے کیلئے ناکہ بندی کر رکھی ہے لیکن وہائٹ ہاؤس اسے فعال جنگ نہیں مان رہا۔
یہ بھی پڑھئے: شاہ چارلس سے کہوں گا کہ کوہ نور واپس کریں: ظہران ممدانی کا رپورٹر کو جواب
دوسری جانب ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن اراکین اس موقف کو مسترد کر رہے ہیں۔ سینیٹر سوزن کولنز کا کہنا ہے کہ ’یہ ڈیڈ لائن کوئی مشورہ نہیں بلکہ ایک قانونی ضرورت ہے۔ ‘ماہرینِ قانون نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کی بنیاد پر۶۰؍ روزہ گھڑی کو روکنا قانون کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ ان کے مطابق ’وار پاورز ریزولوشن‘ میں ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جو انتظامیہ کو جنگ بندی کے دوران وقت روکنے کی اجازت دیتا ہو۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کے بعض سابق مشیروں نے مشورہ دیا ہے کہ اس جنگ کو ’ایپک پیسیج‘ جیسے کسی نئے مشن کا نام دے دیا جائے تاکہ اسے دفاعی کارروائی قرار دے کر قانونی پیچیدگیوں سے نکلا جا سکے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا امریکی کانگریس انتظامیہ کے اس ’خلا‘ کو تسلیم کرے گی یا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی جنگی پالیسی پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔