Updated: March 18, 2026, 5:02 PM IST
| Tehran
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایران نے سیکڑوں اسٹارلنک آلات ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور انہیں دشمن سے منسلک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب رپورٹس کے مطابق روس ایران کو سیٹیلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کو نشانہ بنایا جا سکے۔
(۱) ایران نے اسٹارلنک کے سیکڑوں آلات ضبط کر لئے
ایران کی انٹیلی جنس وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک بھر میں سیکڑوں اسٹارلنک آلات ضبط کر لئے ہیں، جو سیٹیلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ آلات غیر قانونی طور پر ملک میں داخل کئے گئے تھے اور ان کا تعلق امریکہ اور اسرائیل سے تھا۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ’’ہم دشمن سے منسلک تمام سیٹیلائٹ انٹرنیٹ نظاموں کی نشاندہی کر رہے ہیں اور انہیں ختم کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جنگی حالات میں ایسے آلات کا استعمال ایک سنگین جرم ہے اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسٹارلنک جیسے نظام جنگی حالات میں مواصلات کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اس لئے ان پر کنٹرول حاصل کرنا ایک اسٹریٹجک قدم سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹوں کی بارش، کمپاؤنڈ میں آگ لگ گئی
(۲) روس ایران کو سیٹیلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے
رپورٹس کے مطابق روس ایران کو سیٹیلائٹ تصاویر اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔ ذرائع کے مطابق اس تعاون کے ذریعے ایران کو بہتر انٹیلی جنس معلومات حاصل ہو رہی ہیں، جس سے اس کی عسکری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر کیا ہےکہ’’کسی بھی ملک کی جانب سے فراہم کی گئی مدد ہماری آپریشنل کامیابی کو متاثر نہیں کر رہی۔‘‘ ماہرین کے مطابق روس اور ایران کے درمیان اس طرح کا تعاون خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تعاون مزید بڑھتا ہے تو جنگ ایک وسیع جغرافیائی دائرے میں پھیل سکتی ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔