Updated: June 20, 2026, 4:01 PM IST
| Tehran
ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے نیا ضابطہ متعارف کرایا، اب جہازوں کوآبنائے سے گزرنے کیلئے ۴۸؍ گھنٹے قبل درخواست دینی ہوگی، اتھارٹی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے داخلی یا خارجی راستے پر تاخیر سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام مطلوبہ معلومات پر مشتمل، گزرنے کی درخواستیں آبنائے کے علاقے میں پہنچنے سے کم از کم۴۸؍ گھنٹے قبل جمع کرائی جائیں۔
ایرانی بحری حکام نے جمعہ کو اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو اب کم از کم۴۸؍ گھنٹے قبل گزرنے کی درخواست جمع کروانی ہوگی۔ یہ ہدایت، جو خلیج فارس آبنائے اتھارٹی کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی گئی، اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے بعد یہ آبی گزرگاہ دوبارہ کھل چکی ہے۔اتھارٹی نے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز کے داخلی یا خارجی راستے پر تاخیر سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام مطلوبہ معلومات پر مشتمل گزرنے کی درخواستیں آبنائے کے علاقے میں پہنچنے سے کم از کم۴۸؍ گھنٹے قبل جمع کرائی جائیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور حزب اللہ جمعہ سے جنگ بندی پرمتفق: امریکی عہدیدار
دریں اثناء نئے قاعدے کے تحت جہاز کے کپتانوں کو جہاز کی قسم، کارگو کی تفصیل، قومیت، متوقع آمد کا وقت، اور حتمی منزل سمیت مکمل ڈیٹا فراہم کرنا ہوگا۔ حکام نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا انہیں گزرنے سے مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جو خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے، دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی تقریباً۲۰؍ فیصد خام تیل کی کھپت اس کی پانیوں سے گزرتی ہے، جس کی وجہ سے کوئی بھی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ آبی راستہ علاقائی کشیدگی کا مرکز رہا ہے، جس میں ایران اور مغربی افواج کے درمیان ٹینکر ضبطی اور بحری جھڑپوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیر کی شام کے خلاف جلد یا بدیر جنگ کی دھمکی
اگرچہ یہ اعلان امریکہ-ایران تعلقات میں نرمی کے ساتھ ہم آہنگ ہے،جس میں جنگ بندی کے معاہدے نے ان کی طویل فوجی کشیدگی کو رسمی طور پر ختم کر دیا،تاہم تجزیہ کار اس نئے ضابطے کو دوہرے مقصد کا حامل قرار دیتے ہیں۔ ایک طرف، اسے بھاری بحری ٹریفک کو منظم کرنے اور بحری حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے ایک عملی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، یہ تہران کو آبنائے پر انتظامی کنٹرول میں توسیع دیتا ہے، جس سے ایرانی حکام کو غیر ملکی فوجی اور تجارتی جہاز رانی کی جانچ پڑتال کے وسیع اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں اس حکم نامے پر شپنگ انڈسٹری کے نمائندوں نے مخلوط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگ اس وضاحت اور ساخت کا خیرمقدم کرتے ہیں، جو آخری لمحات کی افراتفری کو کم کر سکتی ہے۔ تاہم، دوسروں نے خبردار کیا ہے کہ۴۸؍ گھنٹے کی مدت سپلائی چین کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ڈیمیوریج (تاخیری) اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہے، خاص طور پر ان ٹینکرز کے لیے جو سخت نظام الاوقات پر چل رہے ہیں۔