Updated: March 26, 2026, 8:12 PM IST
| Washington
ایران جنگ کے دوران سفارتی سطح پر شدید ابہام برقرار ہے۔ ایک طرف وہائٹ ہاؤس یہ بتانے سے گریز کر رہا ہے کہ وہ ایران میں کس کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایرانی قیادت مذاکرات چاہتی ہے۔ اسی دوران عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے پاکستان میں ممکنہ وسیع مذاکرات کی بات کی ہے، جس سے سفارتی سرگرمیوں میں پیچیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) وہائٹ ہاؤس نے ایران مذاکرات کے بارے میں خاموشی اختیار کر لی
وہائٹ ہاؤس نے یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکہ ایران میں کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ امریکی حکام سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ ’’ہم سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق امریکہ مختلف ذرائع اور ثالثوں کے ذریعے ایران کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم اس کی تفصیلات خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ براہ راست مذاکرات میں شامل نہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ سفارتی محاذ پر واضح پیش رفت کے باوجود شفافیت کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جنگ بندی کیلئے پانچ شرائط، امریکہ سے بات چیت سے واضح انکار
(۲) ٹرمپ کا دعویٰ، ایرانی مذاکرات کار اپنی جان کے خوف میں مبتلا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار ’’اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مارے جانے‘‘ کے خوف سے کھل کر بات نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ ڈیل چاہتے ہیں لیکن کہنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔‘‘ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران ’’بہت بری طرح معاہدہ چاہتا ہے‘‘، تاہم وہ اس کا اظہار نہیں کر رہا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران مسلسل مذاکرات کی تردید کر رہا ہے۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے بیانات میں واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا اعتماد جے ڈی وینس پر، جنگ پر عالمی شرطیں بدل گئیں
(۳) پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان وسیع مذاکرات کا امکان
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران پاکستان میں وسیع تر مذاکرات کیلئے تیار ہو سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات ثالثی کے ذریعے ہو سکتے ہیں اور ان کا مقصد جنگ کے خاتمے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ’’اسلام آباد ممکنہ طور پر ایک اہم سفارتی مرکز بن سکتا ہے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک براہ راست مذاکرات سے انکار کر رہے ہیں، لیکن پسِ پردہ رابطے جاری ہیں۔ یہ اشارہ دیتا ہے کہ سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔