ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایرانی میزائیل کے تعلق سے عائد کئے گئے الزامات کو مسترد کردیا، اسے ’’ بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 12:57 PM IST | Tehran
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایرانی میزائیل کے تعلق سے عائد کئے گئے الزامات کو مسترد کردیا، اسے ’’ بڑا جھوٹ‘‘ قرار دیا۔
ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’بڑے جھوٹ‘‘ کا نام دیا۔ تہران کا یہ ردعمل ٹرمپ کی تقریر کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ’’ایران کے ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور حالیہ مظاہروں میں ہلاکتوں سے متعلق جو کچھ بھی الزام لگایا جا رہا ہے، وہ محض بڑے جھوٹ کی تکرار ہے۔‘‘واضح رہے کہ ان کا بیان ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد آیا جس میں انہوں نے ایران کو ’’دہشت گردی کا دنیا کا سب سے بڑا سرپرست ملک‘‘ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ایران کے خلاف خفیہ کارروائی سانحہ کا باعث بن سکتی ہے: اقلیتی لیڈرچک شومر
مزید برآں اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ’’ایران کسی بھی صورت میں ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا‘‘ اور امریکہ کے ساتھ ’’بے مثال معاہدہ‘‘ کرنے کا موقع موجود ہے۔اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے۲۰۲۰ء میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران ،امریکہ تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر مظاہروں کو کچلنے کا بھی الزام لگایا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ۲۰۲۶ء
یہ بھی یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین عمان کی ثالثی میں معاہدے کیلئے مذاکرات جاری ہیں ، جن کا دو دور مکمل ہو چکا ہے، تاہم دونوں ممالک نے اپنی فوجوں کو بھی تیار رکھا ہے، اس بابت ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ناکام ہونے کی صورت میں امریکہ ایران پر حملہ کردے گا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کیلئے ہے، تاہم وہ مذاکرات کیلئے تیار ہے، لیکن کسی بھی امریکی جارحیت کا دنداں شکن جواب بھی دے گا۔