Updated: May 03, 2026, 10:05 PM IST
| Tehran
ایران نے امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ ناممکن جنگ یا برے معاہدے میں کسی ایک کا انتخاب کریں، ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران اور لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر بات چیت کی ایک ماہ کیحتمی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر: ایکس
ایران کےپاسداران انقلاب (IRGC) نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ ،’’ناممکن جنگ یا برے معاہدے‘‘ کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔اتوار کو ایکس پر ایک پوسٹ میں، پاسداران کے خفیہ محکمہ نے کہا کہ ایران نے امریکی فوج کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ایک ڈیڈ لائن بھیج دی ہے۔اس نے مزید کہا کہ’’ یورپ، چین اور روس ، امریکہ کے بارے میں زیادہ تنقیدی لہجہ اپنا رہے ہیں۔اس سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، ٹرمپ کو یا تو ناممکن فوجی کارروائی یا ایران کے ساتھ برے معاہدے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ فیصلہ سازی کے لیے امریکہ کا دائرہ کار تنگ ہو گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے ساتھ ایک اور جنگ ہو سکتی ہے: ایران
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔۱۳؍ اپریل سے، امریکہ نے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں ایرانی بحری آمد ورفت کو نشانہ بناتے ہوئے بحری ناکہ بندی نافذ کر دی ۔ حالانکہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے۸؍ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد۱۱؍ اپریل کو اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات ہوئے، لیکن مستقل جنگ بندی پر کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ٹرمپ نے بعد میں پاکستان کی درخواست پر کوئی نئی حتمی تاریخ مقرر کیے بغیر جنگ بندی میں توسیع کر دی۔
یہ بھی پڑھئے: چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کے تعلق سے ایران اور امریکہ دونوں کو نصیحت
دریں اثناء ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران اور لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے پر بات چیت کی ایک ماہ کی حتمی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ بعد ازاں ایران نے جمعرات کو واشنگٹن کو ایک فریم ورک معاہدے کے لیے ۱۴؍ نکاتی نظرثانی شدہ تجویز پیش کی۔