امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہنے تک ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کردیا ہے، ایران نے اصرار کیا ہےکہ جب تک امریکی افواج خلیجی آمد و رفت کو روکے رکھیں گی، جنگ بندی بے معنیٰ ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا۔
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 9:04 PM IST | Tehran
امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہنے تک ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کردیا ہے، ایران نے اصرار کیا ہےکہ جب تک امریکی افواج خلیجی آمد و رفت کو روکے رکھیں گی، جنگ بندی بے معنیٰ ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا۔
ایران نے جمعرات کو بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا، چاہے جنگ بندی میں توسیع ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے دو جہازوں کو ضبط کرنے کا اعلان کیا جو اس اہم آبی گزرگاہ کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بدھ کو کہا کہ اس نے بھی ۳۱؍ بحری جہازوں کو واپس جانے یا بندرگاہ پر لوٹنے کی ہدایت کی ہے، جو اس کی اپنی ایران کے خلاف ناکہ بندی کا حصہ ہے۔ بعد ازاں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ وہ پاکستان کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کے لیے جنگ بندی برقرار رکھیں گے۔ تاہم ایران نے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا لیکن ٹرمپ کے اعلان پر کوئی اور تبصرہ نہیں کیا۔ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا، ’’مکمل جنگ بندی صرف اس وقت معنیٰ رکھتی ہے جب اسے بحری ناکہ بندی کے ذریعے توڑا نہ جائے۔‘‘مزید برآں انہوں نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اس وقت ممکن نہیں جب جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہو رہی ہو۔‘‘
Iran`s IRGC Navy has released footage of its forces seizing a pair of container ships in the Strait of Hormuz this morning. pic.twitter.com/hAbmTTe8DR
— OSINTtechnical (@Osinttechnical) April 22, 2026
دریں اثناء ایران نے امریکی ناکہ بندی کے دوران آبنائے ہرمز نہ کھولنے کے عزم کا اظہار کیا، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو چار فیصد اضافہ ہوا۔اسی دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے دو جہازوں کو ایرانی ساحل کی طرف جانے پر مجبور کیا۔ ان میں پناما کے جھنڈے والا کنٹینر جہاز’’ فرانسسکا‘‘ اور لائبیریا کے جھنڈے والا ’’ایپامینوداس‘‘شامل ہیں۔تاہم پناما کی وزارت خارجہ نے اس ضبطی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سمندری سلامتی پر سنگین حملہ اور غیر ضروری کشیدگی قرار دیا۔علاوہ ازیںبرطانوی سمندری حفاظتی نگرانوں نے تصدیق کی کہ تین تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں گن بوٹوں کے ساتھ واقعات کی اطلاع دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان کی جنگ بندی کے بعد پہلی بار حزب اللہ کا اسرائیلی فوج پر حملہ
دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد، امریکہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی جنگ بندی کرانے میں مدد کی۔ لبنانی میڈیا کے مطابق، اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں بدھ کو مزید پانچ افراد شہید ہوئے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکران نے اعلان کیا کہ سنیچر کو اقوام متحدہ کی امن فوج کے خلاف مبینہ گھات لگا کر کئے گئے حملے میں زخمی ہونے والا دوسرا فرانسیسی فوجی بھی دم توڑ گیا، جس کا الزام انہوں نے حزب اللہ پر عائد کیا ہے۔جبکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جمعرات کو واشنگٹن میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا۔ ایک لبنانی اہلکار کے مطابق لبنان ،جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع کی درخواست کرے گا۔