امریکہ کے ارب پتی سرمایہ کار رے ڈیلیو نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بڑھتا ہوا تنازع عالمی نظام کے ٹوٹنے اور امریکی معاشی غلبے کے خاتمے کا آغاز بن سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 5:09 PM IST | Washington
امریکہ کے ارب پتی سرمایہ کار رے ڈیلیو نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا بڑھتا ہوا تنازع عالمی نظام کے ٹوٹنے اور امریکی معاشی غلبے کے خاتمے کا آغاز بن سکتا ہے۔
مشہور سرمایہ کار Ray Dalio نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی، جو اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، عالمی معیشت کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ ایک ایسے بڑے بحران کا آغاز ہے جو عالمی طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ اپنے تجزیے میں ڈیلیو نے سوئز بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے اس بحران نے برطانوی سلطنت کے زوال کی راہ ہموار کی تھی، ویسے ہی موجودہ صورتحال امریکہ کے لیے بھی ایک تاریخی امتحان بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت مسلسل متاثر رہی تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی نظام تک پہنچیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: مشرق وسطیٰ میں ماہرین کی تعیناتی، سینڈرز کی جنگی اخراجات پر سخت تنقید
ڈیلیو نے اپنی ’’بگ سائیکل‘‘ تھیوری کے تحت تین بڑے خطرات کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معیشت بڑھتے ہوئے قرض اور ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث دباؤ میں ہے، جبکہ اندرونی طور پر سیاسی تقسیم اور سماجی کشیدگی ملک کو کمزور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات امریکہ کے وسائل کو تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ’’پیٹرو ڈالر‘‘ نظام کے ممکنہ خاتمے پر زور دیا۔ ان کے مطابق اگر تیل کی عالمی تجارت میں ڈالر کے بجائے چینی یوآن یا دیگر کرنسیاں استعمال ہونا شروع ہو گئیں تو امریکی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور ڈالر اپنی عالمی حیثیت کھو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ امریکی جمہوریت کو تاریخی رفتار سے ختم کررہے ہیں: واچ ڈاگ کا انتباہ
ڈیلیو نے خبردار کیا کہ موجودہ عالمی نظام میں دراڑیں پڑنا شروع ہو چکی ہیں اور اسے صرف ایک جغرافیائی سیاسی بحران سمجھنا بڑی غلطی ہو گی۔ ان کے مطابق یہ ایک بڑی معاشی تبدیلی اور دولت کی عالمی سطح پر منتقلی کا اشارہ ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اثاثوں کو متنوع بنائیں اور حقیقی اثاثوں کی طرف توجہ دیں تاکہ ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے، اور ایران نے جواب میں آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے۔