ایران جنگ کے اثرات کے سبب ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت دگنا ہو گئی ، جس کے نتیجے میں ایئر کنیڈا نے چھ راستوں کی پروازیں معطل کر دیں، ایئر لائن کا کہنا ہے کہ یہ راستے اقتصادی طور پر ممکن نہیں رہے۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 10:12 PM IST | Ottawa
ایران جنگ کے اثرات کے سبب ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت دگنا ہو گئی ، جس کے نتیجے میں ایئر کنیڈا نے چھ راستوں کی پروازیں معطل کر دیں، ایئر لائن کا کہنا ہے کہ یہ راستے اقتصادی طور پر ممکن نہیں رہے۔
ایئرکنیڈا نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ اپنے چھ راستوں پر پروازیں منسوخ کر رہی ہے، جس کی وجہ ایران جنگ کے دوران جیٹ فیول کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہے۔ایئر لائن کے بیان کے مطابق، ’’ایران تنازع شروع ہونے کے بعد سے جیٹ فیول کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں، جس نے کم منافع والے بعض راستوں اور پروازوں کو متاثر کیا ہے جو اب معاشی طور پر قابل عمل نہیں رہیں۔دریں اثناء کنیڈا کے اندر، البرٹا کے فورٹ میکمرے اور برٹش کولمبیا کے وینکوور کے درمیان پروازیں۲۸؍ مئی کو ختم ہو جائیں گی، جبکہ نارتھ ویسٹ ٹیریٹریز کے ییلونائف سے ٹورنٹو راستے کی آخری پرواز۳۰؍ اگست ہوگی۔ یہ دونوں راستے مستقل طور پر ختم کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اگر امریکہ نے ناکہ بندی جاری رکھی تو ایران ہرمز کو بند کر دے گا: باقر قالیباف
اس کے علاوہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹورنٹو اور مانٹریال کے درمیان پروازیں یکم جون سے عارضی طور پر روک دی جائیں گی، اور۲۵؍ اکتوبر سے دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔سالٹ لیک سٹی اور ٹورنٹو کے درمیان پروازیں بھی۳۰؍ جون سے معطل ہوں گی، جبکہ ۲۰۲۷ء میں کسی وقت بحالی کا منصوبہ ہے۔ساتھ ہی میکسیکو کے گواڈالاجارا اور مانٹریال کے درمیان نیا راستہ جو منصوبہ بند تھا، وہ بھی نہیں چلایا جائے گا۔ایئر کنیڈا نے کہا کہ متاثرہ پروازوں پر مختص شدہ مسافروں سے براہِ راست رابطہ کیا جائے گا اور انہیں دیگر سفری اختیارات دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: اگر آبنائے ہرمز نہ کھلا تو دنیا بھوک سے دوچار ہوگی: اقوام متحدہ کا انتباہ
واضح رہے کہ ۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے اشتراک سے شروع ہونے والی ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز بند ہوگئی اور توانائی کی تنصیبات پر حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور کئی ایندھنی اقسام کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔تاہم ۸ ؍ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی نافذ ہوگئی اور مستقل امن کی کوششیں جاری ہیں۔لیکن بڑھتی ہوئی ایندھن کی لاگت اور سپلائی کی کمی نے عالمی فضائی سفر کو درہم برہم کر دیا، جس سے پورے خطے اور اس سے باہر پروازوں میں خلل پیدا کردیا، اس کے علاوہ متعدد پروازوں کی منسوخیاں ہوئیں۔