شامی صدر احمد الشرع کا کہنا ہے کہشام ایک ایسے حفاظتیمعاہدے کی خواہش رکھتا ہے جس میں اسرائیل کی۱۹۷۴ء کی سرحدوں تک واپسی کی ضمانت دی جائے، جو ممکنہ وسیع تر مرحلہ وار مذاکرات کی جانب نقطہ آغاز ہوگا۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 10:11 PM IST | Damascus
شامی صدر احمد الشرع کا کہنا ہے کہشام ایک ایسے حفاظتیمعاہدے کی خواہش رکھتا ہے جس میں اسرائیل کی۱۹۷۴ء کی سرحدوں تک واپسی کی ضمانت دی جائے، جو ممکنہ وسیع تر مرحلہ وار مذاکرات کی جانب نقطہ آغاز ہوگا۔
شامی صدر احمد الشرع نے جمعہ کو کہا کہ شام ایک نئے سلامتی معاہدے کی تلاش کر رہا ہے جو اسرائیل کی ۱۹۷۴ءکی حدبندی پر واپسی کی ضمانت دے، جو ممکنہ وسیع تر مذاکرات کی جانب مرحلہ وار نقطہ آغاز ہوگا۔ترکی میں انطالیہ سفارتی فورم کے دوران ایک پینل میں گفتگو کرتے ہوئے، الشرع نے کہا کہ ۱۹۷۴ء کا معاہدہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے تک قائم رہا، لیکن بعد میں اسرائیلی خلاف ورزیوں نے اسے کمزور کر دیا، خاص طور پر دسمبر۲۰۲۴ء میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد۔انہوں نے کہا، ’’ہم اب مذاکرات کی پہلی سطح میں داخل ہو رہے ہیں، جو ایک سلامتی معاہدے کی تلاش ہے جو اسرائیل کی ۱۹۷۴ء کی سرحدوں پر واپسی کی ضمانت دے، اور نئے قواعد وضع کرے، یا تو معاہدے کے پابند رہ کر یا اس میں ایسی ترامیم کر کے جو دونوں فریقوں کی سلامتی کو یقینی بنائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے بعد، تو ہم ممکنہ طور پر طویل مدتی مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں تاکہ مقبوضہ گولان کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے نیٹو کو کاغذی شیر قرار دیا جو وقت پڑنے پر ساتھ نہیں آیا
بعد ازاں شامی صدر نے اسرائیلی خودمختاری کے کسی بھی اعتراف کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، مقبوضہ شامی گولان پر اسرائیل کے دعوے غیر تسلیم شدہیں۔ یہ ایک حق ہے جو شامی عوام کو حاصل ہے، کسی حکومت کو نہیں۔‘‘ واضح رہے کہ ۸؍ دسمبر۲۰۲۴ء کو بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد، اسرائیل نے۱۹۷۴ء کے ڈس انگیجمنٹ معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا اور سرحد کے ساتھ بفر زون پر قبضہ کر لیا۔اگرچہ نئی شامی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں تھا، لیکن اسد کی معزولی کے بعد سے اسرائیلی افواج نے شام میں کئی فضائی حملے کیے ہیں، جن میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور فوجی تنصیبات، سازوسامان اور گولہ بارود کو نشانہ بنایا گیا۔