جموں انتظامیہ نے جمعہ کو عوامی نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع بھر میں سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ حساسیت والے مواد کی پوسٹنگ، شیئرنگ یا فارورڈنگ پر۶۰؍ روزہ پابندی عائد کر دی۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 10:26 PM IST | Srinagar
جموں انتظامیہ نے جمعہ کو عوامی نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع بھر میں سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ حساسیت والے مواد کی پوسٹنگ، شیئرنگ یا فارورڈنگ پر۶۰؍ روزہ پابندی عائد کر دی۔
جموں انتظامیہ نے جمعہ کو عوامی نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو لاحق خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ضلع بھر میں سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ حساسیت والے مواد کی پوسٹنگ، شیئرنگ یا فارورڈنگ پر۶۰؍ روزہ پابندی عائد کر دی۔ ضلع مجسٹریٹ راکیش منہاس نے بھارتیہ ناگرک سورکشا سنہیتا (بی این ایس ایس)۲۰۲۳ء کے سیکشن۱۶۳ء کے تحت یہ حکم نامہ جاری کیا، جس میں متن، تصاویر، ویڈیوز، آڈیو، میمز، گرافکس یا ریلز سمیت کسی بھی ایسے مواد کی گردش پر پابندی ہے جو مذہب، ذات، زبان، نسل یا علاقے کی بنیاد پر مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی یا بغض کو فروغ دیتا ہو۔دریںثناء یہ پابندی فوری طور پر نافذ ہوگئی ہے اور واٹس ایپ، فیس بک، ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹیلی گرام سمیت تمام بڑے پلیٹ فارمز پر اس پابندی کا اطلاق ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: آئین نے خود اپنا تحفظ کیا، ۲۹۸؍ پر ۲۳۰ ؍کی فتح
یہ حکم ضلع جموں کے اندر موجود تمام افراد پر لاگو ہوتا ہے اور اس میں باہر سے پوسٹ کیا گیا وہ مواد بھی شامل ہے جو ضلع کے اندر عوامی نظم کو متاثر کرتا ہو۔مزید برآں حکام نے بتایا کہ سوشل میڈیا کا بڑھتے ہوئے غلط استعمال کیا جا رہا ہے، جھوٹے اور اشتعال انگیز مواد کی گردش کے لیے جو فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے، جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور امن کو برباد کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ اس ہدایت نامے میں سوشل میڈیا کے استعمال سے ہجوم، غیر قانونی اجتماعات یا جلوسوں کو منظم کرنے پر بھی پابندی ہے جس کا مقصد کسی برادری کو نشانہ بنانا یا دہشت زدہ کرنا ہو۔اسی طرح مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی یا فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھڑکانے والی تقاریر یا مواد کی اشتراک بھی ممنوع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عمر عبداللہ نے ترنگے کی شکل کا رِبن کاٹنے سے انکار کر دیا
بعد ازاں حکام نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی پر بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس)۲۰۲۳ء اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ء کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں جرمانے اور قید، حتیٰ کہ قومی اتحاد کے لیے خطرہ بننے والے مقدمات میں عمر قید بھی شامل ہے۔گروپ ایڈمنسٹریٹرز اور چینل آپریٹرز کو اس طرح کے مواد کی گردش روکنے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، اور عدم تعمیل کی صورت میں ان پر قانونی اثرات مرتب ہوں گے۔ سوشل میڈیا انٹرمیڈیئریز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ حکومت کے ’’سہیوگ ‘‘پلیٹ فارم کے ذریعے ہٹانے کی درخواستوں پر فوری کارروائی کریں، بصورت دیگر وہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت محفوظ پناہ گاہ کا تحفظ کھو سکتے ہیں۔
علاوہ ازیںحکم نامے میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کروائیں۔ ایک کل وقتی سائبر مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے گا، نیز سب ڈویژنل سطح پر ایس ڈی ایم کی نگرانی میں خصوصی مانیٹرنگ سیل بنائے جائیں گے۔