پڈگھا اور اس کے اطراف واقع قبائلی علاقوںمیں جنگلاتی زمینوں پر کئے گئے ناجائز قبضوں کے خلاف محکمۂ جنگلات نے بالآخر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 12:05 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
پڈگھا اور اس کے اطراف واقع قبائلی علاقوںمیں جنگلاتی زمینوں پر کئے گئے ناجائز قبضوں کے خلاف محکمۂ جنگلات نے بالآخر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
پڈگھا اور اس کے اطراف واقع قبائلی علاقوںمیں جنگلاتی زمینوں پر کئے گئے ناجائز قبضوں کے خلاف محکمۂ جنگلات نے بالآخر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔افسران نے متنازع مقامات کا معائنہ، غیرقانونی تعمیرات کرنے والوں کو نوٹس اور حد بندی کا عمل شروع کردیا ہے۔ مقامی قبائلی باشندوں اور سماجی تنظیموں کی مسلسل شکایات کے بعد ریاستی وزیر جنگلات گنیش نائیک کی ہدایت پر متعلقہ افسران متحرک ہو گئے ہیں، جس کے باعث زمین مافیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پڈگھا، واہولی، کروند اور ملحقہ قبائلی بستیوں میں گزشتہ کئی برسوں سے جنگلاتی اراضی، چراگاہوں اور قدرتی وسائل پر غیرقانونی قبضے کئےجا رہے تھے۔ بااثر افراد اور بعض کاروباری عناصر نے گودام سازی اور دیگر تجارتی مقاصد کیلئے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کرتے ہوئے جنگلاتی زمینوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا، جس سے مقامی قبائلی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کھاریگاؤں ٹول ناکہ دوبارہ شروع کرنے کی این سی پی (شردپوار) کی مخالفت
مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ ان قبضوں کے باعث نہ صرف ان کے روایتی حقوق متاثر ہوئے بلکہ قدرتی آبی ذخائر اور برساتی نالوں کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ بارش کے موسم میں پانی کی نکاسی متاثر ہونے سے کئی دیہات زیرِ آب آنے لگتے ہیں اور آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔اس ضمن میں مشترکہ جنگلاتی انتظامی کمیٹیوں، مقامی تنظیموں اور قبائلی نمائندوں نے حال ہی میں وزیرجنگلات سے ملاقات کر کے ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا تھا، جس میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ میمورنڈم میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر مانسون سے قبل قبضے نہ ہٹائے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر جنگلات کی ہدایت کے بعد تھانے اور پڑگھا کے محکمۂ جنگلات کے افسران نے مختلف مقامات کا سروے شروع کر دیا ہے۔ پڑگھا کے رینج فاریسٹ آفیسر رمیش رسال کی قیادت میں ٹیم نے کئی متنازع مقامات کا معائنہ کیا اور غیرقانونی تعمیرات کرنے والوں کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ بعض مقامات پر حد بندی (ڈیمارکیشن) کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ جنگلاتی زمینوں کی اصل حدود واضح کی جا سکیں۔ محکمۂ جنگلات کے مطابق قبضہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور جہاں ضرورت پڑی وہاں انہدامی کارروائی بھی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: آج سبھی کی نگاہیں مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے نتائج پر
اس سلسلے میں لینڈ ریکارڈ دفتر کی مدد سے سروے کر کے مکمل رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔ قبائلی رہنماؤں اور مقامی شہریوں نے اس کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس بار محض رسمی کارروائی کے بجائے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے تاکہ جنگلاتی زمینوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور قبائلی عوام کے حقوق بحال ہوں۔