سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں نے اسے قومی سیاست کا ’ٹرننگ پوائنٹ ‘ قرار دیا۔ بیشتر افراد کو ممتابنرجی کی جیت کی امید۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 11:48 AM IST | Saeed Ahmed Khan, Iqbal Ansari And Shahab Ansari | Mumbai
سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں نے اسے قومی سیاست کا ’ٹرننگ پوائنٹ ‘ قرار دیا۔ بیشتر افراد کو ممتابنرجی کی جیت کی امید۔
پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کےنتائج پیر ۴؍مئی (آج)ظاہر کئے جائیں گے مگر سب کی نگاہیں مغربی بنگال کے نتائج پر ہیں۔ ممبئی کے شہریوں اور شہر میں مغربی بنگال کے جوباشندے رہائش پزیر ہیں ، وہ بھی بے صبری سے اس کا انتظار کررہے ہیں۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کے نتائج کو قومی سیاست میں ’ٹرننگ پوائنٹ‘ بھی مان رہے ہیں۔
محمد منیرالاسلام عرف بپی بھائی کا تعلق مغربی بنگال کے اشوک نگر اسمبلی حلقہ سے ہے، وہ ممبئی میں رہتے تھے، فی الوقت اپنے وطن میں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کی نگاہیں آج آنے والے نتائج پر ہیں۔ بیشتر کو ممتا بنرجی کی کامیابی کی امید ہے کیونکہ کئی اسکیموں کا عوام کو بلاتفریق راست فائدہ پہنچا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ یہ تبصرہ بھی کررہے ہیں کہ ممتابنرجی کی کامیابی کا فیصد کچھ کم ہوسکتا ہے مگر آئیں گی تو ممتا ہی۔
یہ بھی پڑھئے: ایچ ایس سی رزلٹ، مہاراشٹر کا نتیجہ ۸۹ء۷۹؍ فیصد
محمد انیس بھی اس وقت کولکاتا میں دم دم ایئرپورٹ کے قریب مقیم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں زبردست خوشی ہے، جوش ہے اور وہ نتائج کیلئے بے قرار ہیں۔ بیشتر کو ممتابنرجی کی کامیابی کی پوری امید ہے مگر کچھ لوگ الیکشن کمیشن کی جانب سے جو طریقہ اپنایا گیا ہے ، اس سے فکرمند بھی ہیں۔ اس کی مثال دو جگہ دوبارہ پولنگ ہے اور ایک حلقے میں۲۱؍ مئی کو پولنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ ووٹوں کی صحیح گنتی بھی ایک چیلنج ہے۔
ایڈ فلم میکر اور الیکشن کے نتائج پر خصوصی دلچسپی رکھنے والے شمیم نے کہا کہ آج واضح ہوجائے گا کہ عوام کا فیصلہ جیتے گا یا تگڑم کامیاب ہوگا۔ مغربی بنگال میں جس طرح ریکارڈ ووٹنگ ہوئی ہے، اس سے ممتابنرجی کی صد فیصد کامیابی یقینی ہے لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بی جے پی ہر حربہ اپنانے میں ماہر ہے، اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ الیکشن کے تعلق سے کچھ کہنا بے سود ہے۔ اس خودمختار ادارے نے تو اپنے وجود پر سوالیہ نشان لگالیا ہے۔ اس کے علاوہ میرے خیال میں یہ الیکشن محض مغربی بنگال تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے نتائج قومی سیاست کا اہم موڑ ثابت ہوں گے ۔ اگر ممتا کی شکست ہوئی تو پھر اپوزیشن کے وجود پر بھی بڑا سوالیہ نشان لگ جائےگا۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: قابل اعتراض وہاٹس ایپ اسٹیٹس رکھنے پر پھل فروش گرفتار
پروبھاشی بنگالی اسوسی ایشن، ڈومبیولی کے صدر تنئے روئے کے مطابق تنظیم سے وابستہ ہونے کی وجہ سے وہ مغربی بنگال کے کئی باشندوں سے رابطہ میں ہیں اور وہاں کے حالات کی وجہ سے عوام میں ممتا بنرجی کے تعلق سے ناراضگی ہے اس لئے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ان کے مطابق دیدی نے روزگار فراہم کرنے کے بجائے عوام کو مفت کی چیزوں کی عادت ڈال دی ہے اور وہاں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے گروپ داداگیری اور آوارہ گردی میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ لوگ وہاں رہنا پسند نہیں کرتے اور روزگار اور بہتر زندگی کی تلاش میں مغربی بنگال سے باہر چلے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ممتا بنرجی کی حکومت میں مغربی بنگال نے ترقی نہیں کی ہے جس کا عوام کو شدت سے احساس ہے۔
ممبرا کے سماجی خدماتگار ایڈوکیٹ حسن ملانی نے کہا کہ ’’مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کی جانب سے عین الیکشن سے قبل ایس آئی آر کے نام پر ۲؍ کروڑ سیکولر اور مسلم ووٹوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیئے گئے، بی جے پی کے ہم خیال آئی پی ایس، آئی اے ایس افسران کی فوج وہاں تعینات کردی گئیں اور الیکشن کمیشن میں اپوزیشن کے اعتراضات اور شکایتوں کی اَن سنی کر دی گئی ، لیڈر آف اپوزیشن الیکشن کمیشن کے رویہ کے خلاف بولتے رہ گئے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ حکومت کے ان رویوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں تانا شاہی شروع ہو چکی ہے، یہ اور بات ہے کہ اس کااعلان نہیںکیاگیا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالم دین کی مشتبہ حالات میں موت پر علماء نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا
کوسہ میں مقیم ڈاکٹر ابو التمش فیضی(عام آدمی پارٹی کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے سابق رکن ) سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’ ہمیں امید ہے کہ بی جےپی کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود مغربی بنگال میں ممتا بینر جی کی ہی حکومت بنے گی۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہےکہ بی جے پی کی جانب سے ہر ممکن کوشش کی گئی کہ ممتا بنرجی کوکم سے کم سیٹیں ملیں۔ اسی لئے بی جے پی کے ہم خیال آئی اے ایس افسران کی جتنی فوج وہاں تعینات کی گئی تھی، مَیں نے اس سے پہلے کسی ریاست کے الیکشن میں نہیں دیکھی لیکن چونکہ وہاں کے عوام دیگر ریاست سے الگ ذہنیت رکھتے ہیں اس لئے مجھے امید ہے کہ ممتا بنر جی کی ہی حکومت تشکیل پائے گی البتہ پیر کو جب ووٹوں کی گنتی شروع ہو گی تو پتہ چل جائے گا کہ ای وی ایم کا کیا رخ ہے۔‘‘