Updated: March 08, 2026, 11:13 AM IST
| Washington
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے ساتھ معلوماتی اور سماجی محاذ بھی نمایاں ہو گیا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ایران کے اہداف پر حملوں کی ایک ڈرامائی ویڈیو جاری کی گئی جسے ہالی ووڈ ایکشن ٹریلر کے انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پیشکش جنگ کی سنگینی اور انسانی اثرات کو کم کر کے دکھا سکتی ہے، جبکہ حامیوں کے مطابق اس کا مقصد عوام کو فوجی صلاحیت سے آگاہ کرنا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے دفتر میں ایران جنگ میں فتح کیلئے دعائیہ تقریب منعقد کی۔ تصویر: ایکس
(۱) وہائٹ ہاؤس کی ایران حملوں پر ہالی ووڈ طرز کی ویڈیو پر تنقید
وہائٹ ہاؤس کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے ایران کے اہداف پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی ایک ڈرامائی ویڈیو جاری کی، جسے ہالی ووڈ ایکشن ٹریلر کے انداز میں تیار کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں دھماکوں اور فضائی کارروائیوں کے مناظر دکھائے گئے تھے اور اس کے ساتھ ڈرامائی موسیقی شامل کی گئی تھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کو اس انداز میں پیش کرنا جنگ کی سنگینی اور اس کے انسانی اثرات کو معمولی بنا کر دکھا سکتا ہے۔ تاہم حامیوں کے مطابق ویڈیو کا مقصد امریکی فوجی صلاحیت کو ظاہر کرنا اور داخلی سطح پر عوام کو یقین دلانا تھا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گیا اور اس نے اس بحث کو جنم دیا کہ جنگ کے دوران حکومتیں عوامی بیانیے کو کس طرح تشکیل دیتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں معلوماتی مہمات ایک اہم عنصر بن چکی ہیں، جہاں حکومتیں ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین کیس میں نیا موڑ: محکمہ انصاف نے ٹرمپ کے خلاف روکی گئی فائلز عام کردیں
(۲) ایران تنازع کے دوران آن لائن ’’آرماگیڈن‘‘ کی مذہبی پیش گوئیاں پھیلنے لگیں
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بعض آن لائن حلقوں اور مبصرین نے اس تنازع کو مذہبی اور قیامتی بیانیے کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا ہے۔ کچھ مباحث میں اس جنگ کو انجیلی پیش گوئیوں سے جوڑا جا رہا ہے جن میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک آخری عالمی جنگ یعنی ’’آرماگیڈن‘‘ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے بیانیے کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں اور تنازع کے بارے میں غلط معلومات کو بھی پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جغرافیائی و سیاسی تنازعات کو بعض اوقات مذہبی فریم ورک کے ذریعے بھی دیکھا جاتا ہے، خصوصاً جب واقعات تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھنے والے خطوں میں پیش آئیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظریات زیادہ تر مخصوص آن لائن یا نظریاتی حلقوں تک محدود ہیں، تاہم جذباتی بیانیے عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز کا اثر: بل گیٹس امیر ترین شخصیات کی فہرست میں ۱۵؍ ویں نمبر پرآگئے
(۳) متحدہ عرب امارات کی شہریوں کو حملوں کی ویڈیوز شیئر نہ کرنے کی ہدایت
متحدہ عرب امارات کے حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایرانی حملوں سے متعلق تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے خوف و ہراس پھیل سکتا ہے یا صورتحال کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد الشمسی نے کہا کہ غیر مصدقہ ویڈیوز یا تصاویر شیئر کرنے سے قانونی نتائج بھی نکل سکتے ہیں اگر وہ عوام میں خوف پیدا کریں یا واقعات کی غلط تصویر پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ ’’متعلقہ حکام کی جانب سے پہلے ہی تنبیہ کے باوجود بعض افراد نے واقعاتی مقامات کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہیں۔‘‘ حکام نے زور دیا کہ ملک میں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ سیکوریٹی ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہ انتباہ اس بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے کہ سیکوریٹی بحرانوں کے دوران سوشل میڈیا معلومات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور حکومتیں اکثر غلط معلومات کو روکنے اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے کیلئے معلومات کے بہاؤ کو منظم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔