Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوتن کا پیغام، نیٹو اور میکرون کا مطالبہ: ایران جنگ پر سفارتی دباؤ بڑھ گیا

Updated: March 19, 2026, 7:21 PM IST | Moscow

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ پر عالمی سطح پر سفارتی بیانات میں شدت آ گئی ہے۔ روسی صدر پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو تعزیتی پیغام بھیجا اور لاریجانی کے کردار کو سراہا۔ نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہئے اور اتحادی اس کیلئے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Russian President Vladimir Putin. Photo: PTI
روسی صدر ولادمیر پوتن۔ تصویر: پی ٹی آئی

(۱) پوتن کا تعزیتی پیغام، لاریجانی کو روس کا قریبی ساتھی قرار دیا
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا جس میں انہوں نے علی لاریجانی کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ پوتن نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’لاریجانی روس کے ایک سچے دوست تھے اور انہوں نے ماسکو اور تہران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘ روسی صدر نے کہا کہ ’’ہم اس نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور ایران کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور روس کے درمیان دفاعی اور سیاسی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تل ابیب پر لرزہ خیز میزائل حملے ، ۲۰۰؍ ہلاک

(۲) نیٹو سربراہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہئے
نیٹو کے سربراہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا ضروری ہے اور اتحادی ممالک اس کیلئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کیلئے ایک اہم راستہ ہے اور اسے بند نہیں ہونا چاہئے۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ اتحادی ممالک اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں کہ جہازوں کی آمدورفت جاری رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔

یہ بھی پـڑھئے: ہمیں نیٹو کیساتھ کی ضرورت نہیں ہے : ڈونالڈ ٹرمپ

(۳) میکرون کا مطالبہ، شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملے بند ہوں
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایران جنگ کے دوران شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور اسے فوری طور پر بند کیا جانا چاہئے۔‘‘ میکرون نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے اور تمام فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شہریوں کی حفاظت کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے دوران توانائی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK