Updated: April 07, 2026, 6:35 PM IST
| Washington
ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت دھمکیوں کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں جنگی قوانین، شہری انفراسٹرکچر کے تحفظ اور ممکنہ جنگی جرائم پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے واضح کیا ہے کہ جنگ میں بیانات اور اقدامات دونوں کو انسانی قوانین کے تابع ہونا چاہیے، جبکہ یورپی اور امریکی لیڈروں نے مزید کشیدگی کو عالمی سطح پر خطرناک قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسرائیلی حملے میں تباہ ایرانی مسجد سے متصل عمارت ۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) آئی سی آر سی کا مطالبہ: ٹرمپ کی بیان بازی کے بعد جنگی قوانین کا احترام یقینی بنایا جائے
آئی سی آر سی کی صدر نے عالمی لیڈروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کے دوران نہ صرف اقدامات بلکہ بیانات میں بھی بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کریں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت دھمکیاں دیں، جن میں پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی بات شامل ہے۔ آئی سی آر سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جنگ کے اصولوں کا احترام الفاظ اور عمل دونوں میں ہونا چاہیے۔‘‘
ادارے نے خبردار کیا کہ شہری انفراسٹرکچر، خاص طور پر توانائی اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ایک خطرناک رجحان کو فروغ دے سکتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے اہداف ’’معمول نہیں بننے چاہئیں‘‘ اور عالمی برادری کو اس کی روک تھام کرنی چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ممکنہ بڑے حملوں کی بات کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تہران میں شریف یونیورسٹی پر امریکی-اسرائیلی حملہ، عالمی سطح پرغم و غصے میں اضافہ
(۲) امریکی سینیٹر کرس مرفی کا انتباہ: ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے جنگی جرائم ہوں گے
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پلوں، پاور پلانٹس اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شہری انفراسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق دیگر امریکی قانون سازوں، بشمول برنی سینڈرز اور چک شومر نے بھی اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے اور ممکنہ شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولا تو ’’ہر پل اور پاور پلانٹ تباہ کر دیا جائے گا۔‘‘
(۳) فرانس کا امریکہ کو انتباہ: ایران میں حملے کشیدگی کے ’شیطانی چکر‘ کو جنم دیں گے
فرانسیسی حکام نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران میں مزید فوجی کارروائی کشیدگی کو ایک خطرناک ’’شیطانی چکر‘‘ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلسل حملے اور جوابی کارروائیاں خطے کو غیر مستحکم کریں گی اور سفارتی حل مزید مشکل ہو جائے گا۔ رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک نے اجتماعی طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کو کم کرنے کیلئے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے امریکی دھمکیوں کو ’’جنگی جرائم کی پیشگی تیاری‘‘ قرار دیا ہے اور ممکنہ جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیاں نظر انداز، ایران ہرمز کونہ کھولنے پر قائم
(۴) اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا بیان: مزید کشیدگی عالمی سطح پر تباہ کن دھچکا ہوگی
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید کشیدگی عالمی سطح پر ’’تباہ کن دھچکا‘‘ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری جنگ پہلے ہی عالمی توانائی، تجارت اور مالیاتی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہے، اور اگر صورتحال مزید بگڑی تو اس کے نتائج عالمی معیشت پر براہ راست پڑیں گے۔ رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے دیگر لیڈروں نے بھی فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔
(۵) اقوام متحدہ سلامتی کونسل ہرمز میں جہاز رانی کے خطرات پر قرارداد کیلئے تیار
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مجوزہ قرارداد میں طاقت کے استعمال کی اجازت شامل نہیں، بلکہ ممالک کو دفاعی تعاون اور جہازوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چین اور روس نے سخت اقدامات کی مخالفت کی ہے، جبکہ امریکہ اور خلیجی ممالک اس قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے اور عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔