Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: ۷۲؍ گھنٹوں میں ۴۵؍ اسرائیلی فوجی زخمی، مجموعی تعداد ۷۳۵؍ تک پہنچ گئی

Updated: April 24, 2026, 10:19 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی فوجی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ۷۲؍ گھنٹوں میں ۴۵؍  فوجی زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد اسرائیلی فوج کے زخمیوں کی مجموعی تعداد ۷۳۵؍ ہو گئی ہے۔ ۱۴۴؍ اہلکاروں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں اور خلاف ورزیوں کے الزامات برقرار ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سرکاری فوجی اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ۷۲؍ گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کے ۴۵؍ مزید اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد ایران کے ساتھ جاری تنازع کے آغاز سے اب تک زخمی اسرائیلی فوجیوں کی مجموعی تعداد ۷۳۵؍ تک پہنچ گئی ہے۔ فوجی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق زخمیوں میں سے ۱۴۴؍ کی حالت سنگین یا نازک ہے، جبکہ ۱۴۹؍ فوجی تاحال زیر علاج ہیں۔ یہ تعداد اتوار کو رپورٹ ہونے والے ۶۹۰؍ زخمیوں سے نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل اور لبنان جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع: ٹرمپ کا اعلان

اہم سوال یہ ہے کہ تازہ زخمی فوجیوں کی تعداد کیسے بڑھی کیونکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ تاہم، فوج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح وضاحت نہیں دی گئی کہ حالیہ چوٹیں کس محاذ یا حالات میں آئیں۔ یاد رہے کہ ۲؍ مارچ سے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ۲۴۷۵؍ سے زائد افراد ہلاک، تقریباً ۷۷۰۰؍ زخمی اور ۱۶؍ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل سے معاہدہ معطل کرنے پر یورپی اتحاد میں شدید اختلاف

دوسری جانب، امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی میں مزید تین ہفتوں کی توسیع پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ وہائٹ ہاؤس میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد سامنے آیا، جہاں اوول آفس میں دونوں ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی گئی۔ یہ توسیع ۱۶؍ اپریل کو اعلان کردہ ابتدائی ۱۰؍ روزہ جنگ بندی کے بعد کی گئی ہے، تاہم مختلف رپورٹس کے مطابق اس جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں، جس سے اس کی مؤثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، زخمی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زمینی سطح پر کشیدگی اب بھی برقرار ہے، چاہے سفارتی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں کیوں نہ جاری ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK