Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی حملوں کے دعوے، امریکی ردعمل، ہرمز کمانڈر کی ہلاکت کی خبر

Updated: March 26, 2026, 6:09 PM IST | Tehran

ایران جنگ کے دوران فوجی سطح پر اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں۔ ایران نے امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر حملے کا دعویٰ کیا، جس پر امریکی سینٹ کوم نے ردعمل دیا ہے۔ اسی دوران ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسیری کی ہلاکت کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی قیادت کے کچھ اہم نام امریکی ہدف کی فہرست سے نکالے جانے کی اطلاعات ہیں۔

 Hormuz Commander Ali Reza Tangsiri. Photo: X
ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسیری۔ تصویر: ایکس

(۱) ایران کا دعویٰ، یو ایس ایس ابراہم لنکن پر حملہ، سینٹ کوم کا ردعمل
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو نشانہ بنایا ہے۔ اس دعوے کے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم اپنے فوجی اثاثوں کی حفاظت کیلئے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔‘‘ امریکی حکام نے حملے کی تفصیلات پر مکمل تصدیق نہیں کی، تاہم سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ دعویٰ جنگ کے سمندری محاذ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی جنگ بندی کیلئے پانچ شرائط، امریکہ سے بات چیت سے واضح انکار

(۲) آئی آر جی سی (پاسداران انقلاب) بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسیری کی ہلاکت کی رپورٹس
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) بحریہ کے سربراہ علی رضا تنگسیری ہلاک ہو گئے ہیں۔ تنگسیری کو آبنائے ہرمز کے کنٹرول میں کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ ’’وہ ایک اہم فوجی کمانڈر تھے جو خطے میں ایران کی حکمت عملی کا حصہ تھے۔‘‘ تاہم ایران کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہرمز کا معاملہ عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ پیش رفت ایران کی فوجی قیادت پر ممکنہ اثرات ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عراق میں فوجی اڈے پرفضائی حملہ،۷؍اہلکار ہلاک،۱۳؍زخمی

(۳) قالیباف اور عراقچی اب امریکی ہدف میں شامل نہیں، رپورٹ
رپورٹس کے مطابق ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اب امریکی ہدف کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ’’یہ فیصلہ ممکنہ سفارتی راستے کو کھلا رکھنے کیلئے کیا گیا ہے۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس اقدام کو ایک نرم سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK