ایرانی مرکزی بینک نے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے پا س وافر مقدار میں غیر ملکی کرنسی ہے، مزید یہ کہ مرکزی بینک کرنسی مارکیٹ میں ۲؍ ارب ڈالر ڈالنے کے لیے تیار ہے جبکہ ریال کو نئے دباؤ کا سامنا ہے۔
EPAPER
Updated: September 01, 2026, 10:04 PM IST | Tehran
ایرانی مرکزی بینک نے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے پا س وافر مقدار میں غیر ملکی کرنسی ہے، مزید یہ کہ مرکزی بینک کرنسی مارکیٹ میں ۲؍ ارب ڈالر ڈالنے کے لیے تیار ہے جبکہ ریال کو نئے دباؤ کا سامنا ہے۔
ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے منگل کو کہا کہ امریکی پابندیوں اور معاشی دباؤ میں اضافے کے باوجود ایران کے پاس کافی غیر ملکی کرنسی موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے خطاب کرتے ہوئے ہمتی نے کہا،’’ایران کے پاس غیر ملکی کرنسی ہے، اور اس کے پاس کافی مقدار میں ہے۔‘‘ جیسا کہ نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ تہران میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہمتی نے کہا کہ مرکزی بینک زر مبادلہ کی منڈی میں ۲؍ارب ڈالر ڈالنے کے لیے تیار ہے، ۔ بعد ازاں امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہ معاشی خاتمہ ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایران غیر ملکی کرنسی کی آمدنی اور وصولی کو جمع کرنا جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے پاس ملکی ذخائر اور دیگر وسائل ہیں جن کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
ہمتی نے کہا کہ ایران کا معاشی نظام نئی پابندیوں کے باوجود کام کرتا رہتا ہے، جبکہ ریال کی حالیہ گراوٹ کو بڑی حد تک نفسیاتی عوامل سے منسوب کیا۔ انہوں نے اس تجویز کو مسترد کیا کہ ایران مہنگائی کے شدید مرحلے (ہائپر انفلیشن) میں داخل ہو گیا ہے، اور کہا کہ اعلیٰ افراط زر اور وسیع معاشی دباؤ کے باوجود اس کا امکان کم ہے۔ہمتی نے تسلیم کیا کہ جنگ اور بعض بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، اور کہا کہ ایرانی سال کے دوسرے نصف میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ترجیحی بنیادوں پر مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال
واضح رہے کہ یہ تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب ایرانی ریال کو امریکی پابندیوں میں شدت اور امریکہ اسرائیل جنگ کے معاشی اثرات کے درمیان ڈالر کے مقابلے میں نئے دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ واشنگٹن نے حال ہی میں ایران کے خلاف اپنی معاشی دباؤ کی مہم کو وسعت دی ہے، جس میں ایرانی آمدنی اور بین الاقوامی تجارت کے کلیدی ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔حالانکہ ایران اور امریکہ نے جون میں ایک۱۴؍ نکاتی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد اپنی جنگ ختم کرنا تھا، لیکن یہ عبوری معاہدہ جلد ہی ناکام ہو گیا۔