Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی افواج نے متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا اور امریکی ڈرون مار گرایا: رپورٹ

Updated: August 31, 2026, 8:01 PM IST | Tehran/Washington

ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز کے اوپر میزائل فائر کرکے ایک امریکی ایم کیو-۹ ریپر (Reaper) ڈرون کو مار گرایا، جس کے نتیجے میں وہ خلیج کے پانیوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔ یہ پیش رفت اتوار کے روز جزیرہ لارک پر دو ایرانی لانچرز پر امریکی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایرانی فوج نے پیر کے روز بیان دیا ہے کہ اس نے ایران کے جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے جواب میں متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر تعینات امریکی فوجیوں اور ہیلی کاپٹروں پر درجنوں دھماکہ خیز ڈرونز سے حملہ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، ایرانی فوج نے اس حملے میں اڈے پر موجود امریکی فوجی اہلکاروں اور ہیلی کاپٹروں کی رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا، جو غیر ملکی افواج کیلئے ایک اہم لاجسٹک اور فضائی نقل و حمل کا مرکز ہے۔ فوج نے مزید جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اتوار کے روز امریکی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے ارکان اور شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ہنوز بند، ایران نے کہا اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن

علیحدہ طور پر، ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے آبنائے ہرمز کے اوپر میزائل فائر کرکے ایک امریکی ایم کیو-۹ ریپر (Reaper) ڈرون کو مار گرایا، جس کے نتیجے میں وہ خلیج کے پانیوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔ یہ پیش رفت اتوار کے روز جزیرہ لارک پر دو ایرانی لانچرز پر امریکی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے جو ایک امریکی اہلکار کے مطابق جولائی کے آخر کے بعد سے ایرانی سرزمین پر پہلے امریکی حملے تھے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں لے جانے والے راکٹ داغنے کیلئے تیار کئے جانے والے سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ آئی آر جی سی نے بتایا کہ اس حملے میں متعدد اہلکار اور عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران خلیج میں ۴۰۰؍ جہاز پھنسے ہیں: یو این

تہران ’جنگ کا خواہاں نہیں‘: جزیرہ لارک پر امریکی حملے کے بعد پزشکیان کا بیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز بیان دیا کہ تہران جنگ کی تلاش میں نہیں ہے لیکن ”کسی بھی جارحیت کے سامنے کبھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔“ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے بشکیک روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ایران ”جارحیت پسندوں کو فیصلہ کن جواب“ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ ہر ایک کیلئے چیلنج بن جائے گی۔“

یہ بھی پڑھئے: ایران: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اسلام کے دشمنوں کے خلاف مسلم اتحاد کی اپیل

ٹرمپ نے ایرانی جزیرے کی تباہی دکھانے والا اے آئی ویڈیو شیئر کیا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایک ویڈیو شیئر کیا جس میں ایران کے جزیرہ خارگ کی تصوراتی تباہی کو دکھایا گیا ہے اور ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر لکھا: ”جزیرہ خارگ کے پرزے پرزے اڑا دیئے گئے!!! صدر ڈی جے ٹی۔“ شپ ٹریکنگ فرم کیپلر (Kpler) اور کنسلٹنسی اینرجی اسپیکٹس (Energy Aspects) کے مطابق، جزیرہ خارگ، جو عام طور پر ایران کی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً ۹۰ فیصد حصہ سنبھالتا ہے، ۳۱ جولائی سے غیر فعال ہے۔ سیٹیلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے لوڈنگ برتھ طویل عرصے سے خالی پڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۴؍ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے

ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں: ٹرمپ

اتوار کو نشر کئے گئے فاکس نیوز کے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو ”انتہائی پرتشدد، برے لوگ“ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر تہران کو جوہری ہتھیار مل جاتا تو وہ اسے استعمال کرچکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ”بنیادی طور پر ختم ہو چکا ہوتا“ اور اسرائیل تباہ ہو جاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر میں صدر نہ ہوتا تو اسرائیل مٹ چکا ہوتا... شاید کوئی مشرقِ وسطیٰ ہی نہ ہوتا۔“ ٹرمپ نے ایران پر امریکی ناکہ بندی کو ”ناقابلِ یقین“ قرار دیا اور ایران کو ایک ”ناکام قوم“ کہا۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے ڈیموکریٹس پر ایران اور وینزویلا کے خلاف امریکی جنگیں ہارنے کی خواہش کا الزام لگاتے ہوئے اصرار کیا کہ امریکہ ”بالکل آسانی سے جیت رہا ہے۔“

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK