Updated: April 04, 2026, 9:16 PM IST
| Tehran
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران سفارتی کوششیں کسی پیش رفت کے بغیر جاری ہیں۔ ایران نے امریکی تجویز کردہ ۴۸؍ گھنٹے کی جنگ بندی کو مسترد کر دیا، جبکہ پاکستان کی ثالثی بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ فرانس کے صدر میکرون نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔
(۱) ایران امریکہ سفارتی کشمکش: ۴۸؍ گھنٹے جنگ بندی کی تجویز اور تہران کا
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ نے ۲؍ اپریل کو ایران کے ساتھ ۴۸؍ گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جسے تہران نے مسترد کر دیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے اس پیشکش کو’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ پیش کی گئی شرائط اس کے مفادات کے مطابق نہیں تھیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق’’ایران نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں عارضی جنگ بندی قابل قبول نہیں ہے۔‘‘ امریکی حکام نے اس پیشکش کی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم سفارتی رابطوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ نےریکارڈ ۵ء۱؍ کھرب ڈالر کا دفاعی بجٹ تجویز کیا، اقلیتی لیڈر چک شومر نےتنقید کی
(۲) پاکستان کی ثالثی ناکام: ایران نے امریکی مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیا
پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے ثالثی کی کوششیں کی گئیں، تاہم یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کیلئے سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’’تہران نے موجودہ شرائط پر مذاکرات سے انکار کر دیا۔‘‘ پاکستانی حکام کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق رابطے جاری تھے۔
(۳) میکرون کا انتباہ: ایران ’’پنڈورا باکس‘‘ نہ کھولے، ہرمز کیلئے پرامن حل پر زور
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کرے اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر پرامن حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ’’ہمیں صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا ہوگا اور سفارتی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔‘‘ میکرون نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے مشترکہ اقدامات کرے۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور توانائی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی پائلٹ لاپتہ، ایران بنکرز کی مرمت تیز، جنگی نقصان سامنے
(۴) ایرانی میڈیا کا دعویٰ: متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف جنگ میں شامل
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف جاری تنازع میں شامل ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس دعوے نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ یو اے ای حکام کی جانب سے اس پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ذرائع کے مطابق اس دعوے کے بعد علاقائی صورتحال پر مزید توجہ مرکوز کی گئی ہے اور سفارتی سطح پر بھی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔