Updated: January 10, 2026, 10:05 PM IST
| Tehran
ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے ایرانی قومی پرچم کے ایموجی میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے بعد کے نشان کے بجائے قبل از انقلاب شیر، تلوار اور سورج والی علامت کو شامل کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران شدید معاشی دباؤ اور اندرونی بدامنی سے گزر رہا ہے، جس نے اس تبدیلی کو سیاسی طور پر حساس بنا دیا ہے۔
ایران کا موجودہ پرچم( دائیں)، شاہ ایران کے دور کا ایرانی پرچم( بائیں) ۔ تصویر: ایکس
ایکس نے اپنی ایموجی لائبریری میں ایرانی قومی پرچم کے ایموجی کو تبدیل کر دیا ہے۔ نئے ایموجی میں سرخ اسلامی نشان اور سبز، سفید، سرخ ترنگے کے ساتھ درج ’’اللہ اکبر‘‘ کی عبارت کو ہٹا کر اسلامی انقلاب سے پہلے استعمال ہونے والے جھنڈے کی علامت شامل کی گئی ہے، جس میں تین رنگوں کے درمیان تلوار تھامے شیر اور سورج کا نشان موجود ہے۔ یہ تبدیلی ابتدا میں ایکس کے ویب ورژن پر دیکھی گئی اور اب کئی موبائل ڈیوائسز پر بھی دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ شیر اور سورج کی علامت ایران کے قبل از اسلام دور اور آئینی بادشاہت کے زمانے سے جڑی ہوئی ہے، جو ۱۹۰۷ء سے قومی پرچم کا حصہ رہی۔ یہ نشان خدائی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور پہلوی خاندان کے دور میں اسے باقاعدہ قومی علامت کی حیثیت دی گئی۔ یہ نشان ۱۹۴۱ء سے ۱۹۵۳ء تک وزیر اعظم محمد مصدق کے دورِ حکومت میں بھی استعمال ہوتا رہا، تاہم بعد میں امریکہ اور برطانیہ کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں محمد رضا شاہ پہلوی دوبارہ اقتدار میں آئے۔ یہ پرچم ۱۹۷۹ء کے اسلامی انقلاب تک رائج رہا۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران بدترین معاشی حالات کے باعث ملک گیر احتجاج اور بدامنی کا سامنا کر رہا ہے۔ ابتدا میں پرامن مظاہرے بعد میں پرتشدد ہو گئے، جبکہ زخمی مظاہرین کی گرفتاری کے لیے ایلام کے امام خمینی اسپتال میں چھاپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ’’کسی دوسرے ملک کے صدر، یعنی ڈونالڈ ٹرمپ، کو خوش کرنے کے لیے اپنی ہی گلیوں کو تباہ کر رہے ہیں۔‘‘ ماہرین کے مطابق، اگرچہ ایران میں غیر ملکی اثر و رسوخ کے خدشات موجود ہیں لیکن ملک کے اندر گہرے سیاسی اور سماجی تضادات بھی حقیقت ہیں۔ ان داخلی مسائل کو مکمل طور پر بیرونی طاقتوں سے منسوب کرنا ریاستی بگاڑ کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر ایران کے خلاف ایک منظم غلط معلوماتی مہم بھی دیکھی گئی، جس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی مبالغہ آمیز تصاویر اور ویڈیوز شامل تھیں تاکہ احتجاج کو حقیقت سے زیادہ پرتشدد دکھایا جا سکے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس اور سابق امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے بھی ایسے دعوے سامنے آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر احتجاج بھڑکانے کا الزام، کشیدگی میں اضافہ؛ ٹرمپ کا سخت انتباہ
سیاسی طور پر اس قدر حساس ماحول میں سوشل میڈیا ایموجیز میں کی گئی اس نوعیت کی تبدیلی کو محض تکنیکی اقدام نہیں بلکہ ایک علامتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جو عوامی جذبات کو مزید بھڑکا سکتا ہے اور پہلے سے موجود تنازع کو وسعت دے کر بدامنی میں بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔