ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی نے سنیچر کو ایرانی مظاہرین سے کہا کہ وہ خامنہ ای حکومت کے خلاف اپنے احتجاج میں مزید شدت لائیں اور ’’مالی شہ رگیں‘‘ کاٹ دیں تاکہ ’’اسلامی جمہوریہ اور اس کے فرسودہ اور جبر کے کمزور نظام کو گھٹنوں پر لایا جا سکے۔‘‘
EPAPER
Updated: January 10, 2026, 8:47 PM IST | Tehran/Washington
ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی نے سنیچر کو ایرانی مظاہرین سے کہا کہ وہ خامنہ ای حکومت کے خلاف اپنے احتجاج میں مزید شدت لائیں اور ’’مالی شہ رگیں‘‘ کاٹ دیں تاکہ ’’اسلامی جمہوریہ اور اس کے فرسودہ اور جبر کے کمزور نظام کو گھٹنوں پر لایا جا سکے۔‘‘
ایرانی فوج نے تہران میں بڑھتے ہوئے حکومت مخالف مظاہروں کے پیشِ نظر اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کی حفاظت کا عہد کیا ہے۔ فوج نے عوام پر زور دیا کہ وہ ’’دشمن کی سازشوں‘‘ کو ناکام بنائیں۔ فوج کا یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی قیادت کو دی گئی تازہ وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے متنبہ کیا تھا۔ سنیچر کو نیم سرکاری نیوز ویب سائٹس پر شائع ہونے والے ایک بیان میں فوج نے اسرائیل اور ’’مخالف دہشت گرد گروپس‘‘ پر ملک کی عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔ فوج نے بیان دیا کہ ’’فوج، سپریم کمانڈر ان چیف کی قیادت میں، دیگر مسلح افواج کے ساتھ مل کر خطے میں دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے علاوہ قومی مفادات، ملک کے اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کا پورا تحفظ کرے گی۔‘‘ ریاستی ٹیلی ویژن کے مطابق، اس سے قبل سپاہِ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے عوام کو خبردار کیا کہ ۱۹۷۹ء کے انقلاب کی کامیابیاں اور ملک کی سلامتی کا تحفظ ایک ’’ریڈ لائن‘‘ (سرخ لکیر) ہے۔
یہ بھی پڑھئے: واجبات ادا نہ کرنے پر امریکہ جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے حق سے محروم ہو سکتا ہے: یو این
دریں اثنا، ایران کے اٹارنی جنرل محمد موحدی آزاد نے متنبہ کیا کہ احتجاج میں حصہ لینے والے کسی بھی شخص کو ’’خدا کا دشمن‘‘ تصور کیا جائے گا، جس کی سزا موت ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک کم از کم ۱۰۰؍ ’’مسلح فسادیوں‘‘ کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایرانی عوام کی حمایت کئے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ روبیو نے ایک بار پھر ایرانی عوام کے لیے واشنگٹن کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’امریکہ ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے۔‘‘
خامنہ ای حکومت کو گھٹنوں پر لانے کے لیے مالی شہ رگیں کاٹ دیں: جلاوطن ولی عہد کی اپیل
ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی نے سنیچر کے دن ایرانی مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے خلاف اپنے احتجاج میں مزید شدت لائیں، شہروں کے مراکز پر قبضہ کریں اور ’’مالی شہ رگیں‘‘ کاٹ دیں تاکہ ’’اسلامی جمہوریہ اور اس کے فرسودہ اور جبر کے کمزور نظام کو گھٹنوں پر لایا جا سکے۔‘‘ پہلوی نے ایکس پر اپنے پوسٹ میں لکھا: ’’میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ آج اور کل بروز سنیچر اور اتوار (بتاریخ ۱۰؍ اور۱۱؍ جنوری) شام ۶؍ بجے سے جھنڈوں، تصاویر اور قومی علامات کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور عوامی مقامات پر اپنا حق جتائیں۔ ہمارا مقصد اب صرف سڑکوں پر آنا نہیں بلکہ شہروں کے مراکز پر قبضہ کرنا اور انہیں اپنے پاس رکھنا ہے تاکہ مظاہروں کو اگلے مرحلے پر لے جایا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لگژری برانڈ ’ پراڈا ‘ نے ہندوستانی چائے کی خوشبو کو پرفیوم کی بوتل میں قید کردیا
واضح رہے کہ ایران میں عوامی مظاہروں کے دوران، رضا پہلوی،بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں میں ایک نمایاں اپوزیشن آواز بن کر ابھرے ہیں۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے معیشت کے اہم شعبوں بالخصوص تیل، گیس اور توانائی کے کارکنوں اور ملازمین سے ملک گیر ہڑتال شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ سڑکوں پر اپنی موجودگی کو زیادہ ہدف مرکوز بنا کر اور مالی شہ رگوں کو کاٹ کر، ہم اسلامی جمہوریہ کو مکمل طور پر گھٹنوں پر لا کھڑا کریں گے۔‘‘
ایران میں تقریباً دو ہفتوں سے جاری عوامی مظاہرے شدید ہوتے جارہے ہیں۔ اس دوران، تہران نے امریکہ اور اسرائیل پر ان ملک احتجاجی مظاہروں کو بھڑکانے کا الزام لگایا ہے جنہوں نے اسلامی جمہوریہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جبکہ واشنگٹن نے ان دعوئوں کو ’’خبط پر مبنی‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ ایران میں جاری ہلاکت خیز بدامنی، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سخت انتباہات اور مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کے درمیان تیز ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران :ملک گیر مظاہروں میں مزید شدت
جمعہ کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ عراقچی نے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ ایک امریکی ترجمان نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبصرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ’’ایرانی حکومت اندرونِ ملک جن بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان سے توجہ ہٹانے کی ایک خبطی کوشش کی جا رہی ہے‘‘
۔ واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ ۱۳؍ دنوں سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ مطاہرین آسمان کو چھوتی قیمتوں اور معاشی تباہی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور ۱۹۷۹ء کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والے مذہبی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حکام کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود ایرانیوں نے جمعہ کو دوبارہ سڑکوں کا رخ کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس بندش کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ’’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‘‘ کو چھپانا ہے جو احتجاج کو کچلنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں ڈجیٹل بلیک آؤٹ۱۲؍ گھنٹے سے تجاوز کر گیا، احتجاج جاری: رپورٹس
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
لبنان کے دورے کے دوران، میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن اگرہم پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ہم اپنا دفاع کرنے کے لیے تیارہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت ایک بڑے تنازع سے بچنے اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات ان کے بقول پرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے میں ’’براہِ راست ملوث‘‘ ہونے کا ثبوت ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی صدر کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں: آیت اللہ خامنہ ای
خامنہ ای کا ٹرمپ کو انتباہ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے احتجاجی مظاہروں اور امریکہ پر کڑی تنقید کی۔ جمعہ کو ایک بیان میں انہوں نے مظاہرین کو ’’شرپسند‘‘ اور ’’تخریب کار‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ پر الزام لگایا کہ ان کے ہاتھ ’’ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں‘‘۔ انہوں نے ٹرمپ کو جون میں ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگ سے جوڑا، جس میں امریکہ نے اسرائیل کی حمایت کی تھی اور تہران پر حملوں کے ذریعے جنگ میں شامل ہوا تھا۔ خامنہ ای نے پیش گوئی کی کہ ٹرمپ، جنہیں انہوں نے ’’مغرور‘‘ قرار دیا، ۱۹۷۹ء کے انقلاب سے قبلکے شکست خوردہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح اقتدار سے بے دخل کر دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی عوام کی مدد کیلئے تیار رہیں: رضاپہلوی کی ٹرمپ سے ایران میں مداخلت کی اپیل
ٹرمپ کی جانب سے سخت وارننگ
ایرانی سپریم لیڈر کو جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے تہران کو ایک واضح وارننگ دی اور کہا کہ ایران ’’بڑی مشکل میں ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین ان شہروں کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں جن کے بارے میں پہلے سوچا جاتا تھا کہ وہاں پہنچنا ناممکن ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی حکام کو مہلک طاقت کے استعمال کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس کا جواب دیتے ہوئے ایسی جگہ وار کرے گا جہاں اسے بہت، بہت زیادہ تکلیف پہنچے گی۔‘‘ اس موقع پر انہوں نےایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں مظاہرین کو’’غیر ملکی دشمن طاقتوں‘‘کا آلہ کار بننے سے بچنے کا انتباہ
مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد ۶۵؍ تک پہنچ گئی
ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی (ایچ آر اے این اے) نے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں اب تک کم از کم ۶۵؍ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکہ میں قائم اس گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کے تمام ۳۱؍ صوبوں کے ۱۸۰؍ شہروں میں ۵۱۲؍ مقامات پر مظاہرے ہوئے ہیں۔ مہلوکین میں ۵۰؍ مظاہرین، ۱۴؍ سیکوریٹی اہلکار اور حکومت سے وابستہ ایک شہری شامل ہے۔ ایجنسی کے مطابق، ۳۰۰۲؍ سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ بیلٹ گن اور پلاسٹک کی گولیوں کے استعمال سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام نے باضابطہ طور پر ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔