Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی فٹ بال ٹیم کا بچوں کو خراج، میچ میں اسکول بیگز کے ساتھ جذباتی منظر

Updated: March 28, 2026, 7:04 PM IST | Riyadh

ایران کی قومی فٹ بال ٹیم نے نائیجیریا کے خلاف میچ میں ایک جذباتی خراج پیش کرتے ہوئے اسکول بیگز کے ذریعے ان بچوں کو یاد کیا جو جنوبی ایران میں میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں ۱۶۵؍ سے زائد افراد ہلواک ہوئے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔

Iranian football team. Photo: X
ایرانی فٹ بال ٹیم۔ تصویر: ایکس

ایران کی قومی فٹ بال ٹیم نے نائیجیریا کے خلاف ایک میچ کو ایک جذباتی یادگار لمحے میں تبدیل کر دیا، جہاں کھلاڑیوں نے قومی ترانے کے دوران اپنے سامنے چھوٹے گلابی اور جامنی رنگ کے اسکول بیگز رکھ کر ان بچوں کو خراج عقیدت پیش کیا جو حالیہ میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ ۲۸؍ فروری کو جنوبی ایران کے ایک پرائمری اسکول پر ہوا تھا، جس میں ۱۶۵؍ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا، جبکہ اقوام متحدہ اور مختلف انسانی حقوق تنظیموں نے اس کی مذمت کی ہے۔

ابھی تک نہ تو امریکہ اور نہ ہی اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جبکہ امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جمعہ کے میچ میں ایرانی کھلاڑیوں کی جانب سے اسکول بیگز کے ساتھ خراج پیش کرنے کا منظر انتہائی جذباتی تھا، جس نے اس سانحے میں جان گنوانے والے بچوں کی یاد کو تازہ کر دیا۔ دریں اثنا، ایران کی قومی ٹیم کے مستقبل کے بین الاقوامی میچز بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ ٹیم کو جون میں امریکہ میں گروپ مرحلے کے تین میچ کھیلنے ہیں، تاہم سیکوریٹی خدشات کے پیش نظر ایران نے فیفا سے درخواست کی ہے کہ ان میچز کو میکسیکو سٹی منتقل کیا جائے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتے، لیکن موجودہ حالات میں امریکہ کا سفر کھلاڑیوں کے لیے محفوظ نہیں سمجھا جا رہا۔

یہ بھی پڑھئے: ڈبلیو ایچ او کا مشرق وسطی کی جنگ روکنے پر زور، صحت کے بگڑتے بحران سے خبردار کیا

دوسری جانب جیانی انفنتینو نے ایران کی اس درخواست کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی فٹ بال تنظیم چاہتی ہے کہ ٹورنامنٹ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی آگے بڑھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ نہ صرف کھیل کے میدان بلکہ عالمی سیاست اور سیکوریٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کھیل بھی اب بڑے تنازعات سے الگ نہیں رہ سکا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK