ڈبلیو ایچ او نے مشرق وسطی کی لڑائی کو روکنے پر زور دیا، ساتھ ہی صحت کے بگڑتے ہوئے بحران سے خبردار کرتے ہوئے بیان میں کہا کہ جہاں طبی سہولیات تک رسائی ختم ہورہی ہےان علاقوں میں ہنگامی صورتحال حقیقی وقت میں سامنے آ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 5:07 PM IST | New York
ڈبلیو ایچ او نے مشرق وسطی کی لڑائی کو روکنے پر زور دیا، ساتھ ہی صحت کے بگڑتے ہوئے بحران سے خبردار کرتے ہوئے بیان میں کہا کہ جہاں طبی سہولیات تک رسائی ختم ہورہی ہےان علاقوں میں ہنگامی صورتحال حقیقی وقت میں سامنے آ رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک عہدیدار نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ علاقائی صحت کا بحران حقیقی وقت میں سامنے آ رہا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی مشرقی بحیرۂ روم کی علاقائی ڈائریکٹر حنان البلخی نے کہا کہ پورے خطے میں صحت کے نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں اور طبی سہولیات کو محفوظ پناہ گاہوں کا درجہ دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’کچھ عرصے سے صورتحال کافی مشکل ہے، لیکن آج ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ دراصل ایک حقیقی علاقائی صحت کا بحران ہے جو اس خطے کے متعدد حصوں میں حقیقی وقت میں سامنے آ رہا ہے۔‘‘ البلخی نے خبردار کیا کہ یہ بحران صرف ہلاکتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ متعدد علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال تک رسائی مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی اداکار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی قتل اور زمین قبضے کی مذمت کی
انہوں نے بتایا کہ حکام جوہری مقامات سے متعلق ممکنہ خطرات کے لیے بھی تیاریاں کر رہے ہیں اور خبردار کیا کہ پانی صاف کرنے والے پلانٹ پر حملے تباہ کن ثابت ہوں گے۔انہوں نے تبصرہ کیا کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں، جن میں ایران میں تقریباً ۳۲؍ لاکھ اور لبنان میں۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد شامل ہیں۔البلخی نے کہا کہ اس تنازعے کے طویل المدتی اثرات میں زچگی کے مسائل میں اضافہ، ذہنی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال، اور بڑی تعداد میں بچوں کا خاندانوں اور تعلیم سے محروم ہونا شامل ہو سکتا ہے۔انہوں نے جوہری تنصیبات پر حملے کے خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، خواہ وہ جان بوجھ کر ہو یا حادثاتی طور پر، اور اس حوالے سے ماضی میں ایسی جگہوں کو نشانہ بنانے والے واقعات کا حوالہ دیا۔واضح رہے کہ حالیہ جنگ میں اسرائیلی فضائی حملے اور حزب اللہ کی سرحد پار کارروائیوں کے بعد جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی کے ساتھ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی بھی شامل ہے۔تاہم ایران نے بھی ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔