۲۰۲۶ءورلڈ کپ کے بعد عالمی فٹبال میں کھلاڑیوں کی منتقلی کا بازار غیر معمولی طور پر گرم رہا، جس میں اربوں ڈالر کی ٹرانسفر فیس خرچ ہوئی۔ فیفا کی تازہ رپورٹ کے مطابق مردوں کے ساتھ خواتین کے فٹبال میں بھی ٹرانسفرز اور اخراجات نے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 10:09 PM IST | Washington
۲۰۲۶ءورلڈ کپ کے بعد عالمی فٹبال میں کھلاڑیوں کی منتقلی کا بازار غیر معمولی طور پر گرم رہا، جس میں اربوں ڈالر کی ٹرانسفر فیس خرچ ہوئی۔ فیفا کی تازہ رپورٹ کے مطابق مردوں کے ساتھ خواتین کے فٹبال میں بھی ٹرانسفرز اور اخراجات نے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔
فیفا نے جمعرات کو اپنی انٹرنیشنل ٹرانسفر اسنیپ شاٹ رپورٹ جاری کی، جس میں ۲۰۲۶ءورلڈ کپ کے مردوں اور خواتین کے فٹبال میں کھلاڑیوں کی منتقلی پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ فیفا کے مطابق۲۰۲۶ء ورلڈ کپ میں حصہ لینے والے۴۷؍ مختلف قومیتوں کے۲۶۷؍ کھلاڑیوں نے سال کے وسط میں ہونے والی ٹرانسفر ونڈو کے دوران کلب تبدیل کئے۔ ان کھلاڑیوں کی منتقلی پر مجموعی طور پر۳ء۳؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹرانسفر فیس خرچ ہوئی۔ خواتین کے فٹبال میں بھی ٹرانسفر کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ ۲۰۲۵ء کے مقابلے میں اخراجات دگنے سے بھی زیادہ ہو کر۶ء۲۸؍ ملین ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ۱۴۰۰؍ سے زائد بین الاقوامی ٹرانسفرز رجسٹر کئے گئے۔ ورلڈ کپ میں شریک کھلاڑیوں کے علاوہ مردوں کے فٹبال میں ۱۲؍ ہزار ۵۰۰؍سے زائد بین الاقوامی ٹرانسفرز ہوئے، جن کی مجموعی مالیت۹ء۸۹؍ ارب ڈالر سے زیادہ رہی۔
یہ بھی پڑھئے: دلیپ ٹرافی: دیودت پڈیکل اور محمد سراج ساؤتھ زون کی ٹیم میں شامل
خواتین کے فٹبال میں ریکارڈ اضافہ
خواتین کے پروفیشنل فٹبال میں مسلسل ترقی کا سلسلہ جاری ہے اور بین الاقوامی ٹرانسفرز کی تعداد اور فیس دونوں کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ فیفا کے مطابق خواتین کے پروفیشنل فٹبال میں مجموعی طور پر۱۴۰۶؍بین الاقوامی ٹرانسفرز رجسٹر ہوئے، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے اور گزشتہ ریکارڈ کے مقابلے میں ۲ء۱۹؍ فیصد زیادہ ہے۔ ٹرانسفر فیس بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بین الاقوامی ٹرانسفرز پر۶ء۲۸؍ ملین ڈالر خرچ کئے گئے جو گزشتہ وسط سال کی ٹرانسفر ونڈو کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ہیں۔ انگلینڈ کے کلبوں نے سب سے زیادہ۸؍ ملین ڈالر خرچ کئے، اس کے بعد اسپین۶ء۶؍ ملین ڈالر، جرمنی۴ء۹؍ ملین ڈالر، امریکہ۲ء۹؍ ملین ڈالر اور اٹلی۲ء۱؍ ملین ڈالر کے ساتھ نمایاں رہے۔ ٹرانسفر فیس حاصل کرنے کے معاملے میں سویڈن کے کلب سب سے آگے رہے، جنہیں ۴ء۲؍ ملین ڈالر ملے۔ انگلینڈ کے کلبوں نے۴؍ ملین ڈالر حاصل کئے، جبکہ فرانس اور جرمنی کے کلبوں کو۳ء۶؍ ملین ڈالر فی کس اور نیدرلینڈز کے کلبوں کو۲ء۹؍ ملین ڈالر ملے۔
مردوں کی ٹرانسفر مارکیٹ میں بھی اضافہ
مردوں کی ٹرانسفر مارکیٹ میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ فیفا کے مطابق۱۲؍ ہزار ۵۰۰؍سے زائد بین الاقوامی ٹرانسفرز پر مجموعی طور پر۹ء۸۹؍ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کئے گئے، جو اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ انگلینڈ کے کلب ۳ء۰۲؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹرانسفر فیس کے ساتھ عالمی سطح پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے رہے۔ اس کے بعد اٹلی ۱ء۱؍ارب ڈالر، اسپین۹۴۰؍ ملین ڈالر، جرمنی۹۰۴؍ملین ڈالر اور فرانس۶۴۱؍ ملین ڈالر کے ساتھ نمایاں رہے۔ انگلینڈ کے کلبوں نے سب سے زیادہ تعداد میں نئے کھلاڑی بھی سائن کئے، جبکہ اسپین اور پرتگال کے کلب اس کے بعد رہے۔ ٹرانسفر فیس حاصل کرنے میں فرانس کے کلب۱ء۷؍ ارب ڈالر کے ساتھ سب سے آگے رہے۔ انگلینڈ کے کلبوں نے۱ء۴۳؍ارب ڈالر، جرمنی نے۱ء۰۲؍ارب ڈالر، اسپین نے۷۷۳؍ملین ڈالر اور پرتگال نے۶۴۲؍ ملین ڈالر حاصل کئے۔