یمن کے شہر تعز میں لڑائی تیز ہونے پر۲؍ دن میں۹۰۰؍ سے زائد خاندان بے گھر ہوگئے، مقامی حکام نے جمعہ کو بتایا کہ یمن کی سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان مغربی صوبہ تعز میں لڑائی نے شدت اختیار کرلی ہے۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 9:27 PM IST | Sana
یمن کے شہر تعز میں لڑائی تیز ہونے پر۲؍ دن میں۹۰۰؍ سے زائد خاندان بے گھر ہوگئے، مقامی حکام نے جمعہ کو بتایا کہ یمن کی سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان مغربی صوبہ تعز میں لڑائی نے شدت اختیار کرلی ہے۔
یمن کی وزارت منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون کے تعز دفتر کے مطابق ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جمعرات اور جمعہ کو مقبنہ ضلع اور اس کے قریبی علاقوں، خاص طور پر جبل حبشی میں نئی جھڑپوں کے دوران۹۱۷؍ خاندان اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔دفتر کا کہنا تھا کہ کشیدگی نے رہائشیوں کو متعدد کمیونٹیز اور کیمپوں کو خالی کرنے پر مجبور کر دیا، جبکہ رہائشی علاقوں اور بے گھر افراد کی پناہ گاہوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔خاندان مقبنہ کے کچھ حصوں بشمول عزل الیمن، العبدلہ، الاشملہ اور الجب کیمپ سے فرار ہوئے، جبکہ دوسرے جبل حبشی میں الرحبہ اور الراجحی کیمپوں سے بے گھر ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ جبل حبشی اور المعافر اضلاع کے محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہوئے۔
بعد ازاں حکام نے خبردار کیا کہ اگر لڑائی جاری رہی تو بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔وزارت کے دفتر نے بتایا کہ بہت سے خاندان بہت کم وقت میں بھاگے، اپنا سامان اور بنیادی ضروریات پیچھے چھوڑ گئے، اور اب وہ ’’انتہائی مشکل‘‘ انسانی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔اس نے مقامی و بین الاقوامی امدادی تنظیموں سے ہنگامی پناہ گاہ، خوراک، پینے کا پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کی اپیل کی، اور کہا کہ ’’بحران کے مزید پھیلنے سے پہلے فوری، کثیر الشعبہ انسانی مداخلت" کی ضرورت ہے۔‘‘
ان خاندان کی بے گھری جمعرات کے اوائل سے تعز اور ہمسایہ صوبہ الحدیدہ میں متعدد محاذوں پر شدید جھڑپوں کے دوران ہوئی ہے، جو آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے۔مقامی میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ لڑائی تیز ہونے کے بعد درجنوں سرکاری فوجی اور حوثی جنگجو مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔گولہ باری میں شہری بھی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، تاہم جھڑپوں کے جاری رہنے کے باعث کوئی جامع سرکاری ہلاکتوں کا اعداد و شمار جاری نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ تازہ ترین تشدد جولائی میں شروع ہونے والےمسلح تصادم کا حصہ ہے، جس نے اپریل ۲۰۲۲ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن کی محاذوں پر عموماً موجود نسبتاً جنگ بندی کا خاتمہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کا ’’نقشہ‘‘ درست کرنے کا فیصلہ، افریقہ کو اصل حجم میں دکھانے کی مہم کامیاب
یاد رہے کہ حوثی ستمبر۲۰۱۴ء سے دارالحکومت صنعاء اور کئی دیگر شہروں پر قابض ہیں، جبکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور اس کے اتحادی یمن کے جنوبی، مشرقی اور مغربی علاقوں کے بڑے حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔