ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کو بین الاقوامی قانون کے دفاع اور غزہ میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر اعلیٰ سول اعزاز ’’آرڈر آف سِوِل میرٹ‘‘سے نوازا۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 12:59 PM IST | Paris
ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کو بین الاقوامی قانون کے دفاع اور غزہ میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر اعلیٰ سول اعزاز ’’آرڈر آف سِوِل میرٹ‘‘سے نوازا۔
ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیز کو ’’آرڈر آف سِوِل میرٹ‘‘سے نوازا جو اسپین کا ایک اعلیٰ سول اعزاز ہے۔ یہ اعزاز انہیں غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کے کام کے اعتراف میں دیا گیا۔ سانچیز نے میڈرڈ میں فرانسسکا البانیز سے ملاقات کی، جہاں دونوں نے فلسطین کی صورتحال، بین الاقوامی قانون کی اہمیت اور ’’تشدد کے فوری خاتمے اور وقار و انسانیت پر مبنی پائیدار امن کی تعمیر کی ضرورت‘‘ پر گفتگو کی۔ سانچیز نے سوشل میڈیا پر لکھا:’’عوامی ذمہ داری یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ اخلاقی طور پر ہم آنکھیں بند نہ کریں۔
یہ بھی پڑھئے: ترک وطن بحران نہیں، منظم حل میں دنیا کی اجتماعی ناکامی اصل بحران ہے: غطریس
‘‘انہوں نے البانیز کو’’دنیا کے ضمیر کو آواز دینے والی شخصیت‘‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ آرڈر آف سِوِل میرٹ اسپین کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک ہے، جو ایسے ہسپانوی یا غیر ملکی افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ریاست یا معاشرے کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔
البانیز، جو ایک اطالوی قانونی ماہر ہیں، ۲۰۲۲ء سے اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر برائے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر تنقید کرنے والی سب سے نمایاں بین الاقوامی شخصیات میں سے ایک بن چکی ہیں۔ منگل کو سانچیز نے یورپی کمیشن کو ایک خط بھی بھیجا جس میں انہوں نے یورپی یونین کے’’بلاکنگ سٹیٹیوٹ‘‘ کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا، تاکہ امریکہ کی جانب سے البانیز اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ججوں اور پراسیکیوٹرز پر عائد پابندیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے۲۲۸؍ فوجی ٹھکانےتباہ کئے، امریکی ڈیٹا کے مقابلے کہیں زیادہ: واشنگٹن پوسٹ
البانیز نے ہسپانوی نشریاتی ادارے RTVE سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’یہ ایک طرح کا بین الاقوامی مافیا ہے وہ ہر اس شخص کو خاموش کرنا چاہتے ہیں جو نسل کشی اور جرائم کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ‘‘اسی دن ہسپانوی وزیر خارجہ جوزے مانوئل الباریس نے اسرائیل کی جانب سے ہسپانوی-فلسطینی کارکن سیف ابوکسیک کی مسلسل حراست کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’ناقابلِ قبول اور غیر مناسب‘‘ قرار دیا۔ الباریس نے ہسپانوی پارلیمنٹ کو بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا اور اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سعار سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ابوکسیک کو بین الاقوامی پانیوں میں ’’غیر قانونی طور پر‘‘ حراست میں لیا گیا، جہاں اسرائیل کا کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا، جب وہ غزہ جانے والے انسانی امدادی قافلے کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ الباریس نے کہا:’’اسپین نے فوری، واضح اور مضبوط ردعمل دیا، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے جواب میں۔ ‘‘