خطے میں عالمی طاقتوں کی موجودگی اور امریکہ کے ساتھ اسٹرٹیجک اتحاد اہم ضرور ہے لیکن یہ ہمیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے: ماجدالانصاری
EPAPER
Updated: September 08, 2026, 1:38 PM IST | Agency | Abu Dhabi / Tehran
خطے میں عالمی طاقتوں کی موجودگی اور امریکہ کے ساتھ اسٹرٹیجک اتحاد اہم ضرور ہے لیکن یہ ہمیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتے: ماجدالانصاری
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ثابت کردیا ہے کہ خلیجی عرب ممالک کو اپنی سیکوریٹی کے لئے صرف امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ابوظہبی میں ہیلی فورم کے ایک پینل سے خطاب کرتے ہوئے ماجد الانصاری نے کہا کہ خطے میں عالمی طاقتوں کی موجودگی اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک اتحاد اہم ضرور ہے لیکن یہ خلیجی ممالک کی مکمل سیکورٹی کے لیے کافی نہیں۔
قطری عہدیدار کے مطابق خلیجی ممالک کے لئے مستقبل کا راستہ سیکوریٹی کے شعبے میں زیادہ خودکفالت حاصل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ سے یہ سبق ملا ہے کہ خطے کو اپنی دفاعی اور سیکورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ماجد الانصاری کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعہ نے خلیج میں سیکوریٹی، بحری آمدورفت اور علاقائی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ان کے مطابق امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، تاہم خلیجی ممالک کو اپنی سیکوریٹی ضروریات پوری کرنے کیلئے مقامی اور علاقائی دفاعی تعاون اور خود انحصاری پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر امریکی حمایت کے خلاف ٹرمپ کی سابق حلیف مار جوری ٹیلر گرین برہم
ایران اقتصادی مسائل کا حل تلاش کررہا ہے:قالیباف
امریکہ اور ایران کے درمیان ماہ اگست کے زیادہ تر حصے میں معطل رہنے والی جھڑپیں حالیہ ایام میں دوبارہ تیزی پکڑ گئی ہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دو امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا، جبکہ امریکہ نے ہفتہ کو ایران کے تین تیل بردار ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے بعد ایران کی مجلسِ شوریٰ کے صدر محمد باقر قالیباف نے کل کہاتھا کہ امریکہ کو بہت دیر ہونے سے پہلے کھیل کےضابطے بدلنے کو سمجھ لینا چاہیے۔ قالیباف نے کہاکہ اب سے ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف ہر قسم کے حملے کا جواب تیز، زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کا روڈی جیولیانی کو جواب، ۱۱؍ ستمبر یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے
ایران نے پہلی بار ’اینٹی ڈسٹرائر‘ میزائل داغا
ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کےسیکریٹری محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی ساختہ اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا استعمال کیا ہے۔ محسن رضائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’۴۸؍ گھنٹے قبل ہم نے پہلی بار ایک امریکی بحری جہاز کے خلاف ایرانی اینٹی ڈسٹرائر میزائل کا تجربہ کیا۔ اس مخصوص میزائل نے امریکیوں کےکیلئے جہنم برپا کر دی اور وہ فرار ہو گئے۔‘‘تاہم مذکورہ میزائل تجربے اور امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے ایرانی دعوے کی امریکہ کی جانب سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔تاہم گزشتہ روز سینٹ کام کی جانب سے ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنے دو بحری جہازوں پر ہونیوالے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کو پیغام دیا تھا کہ اگر ہمارے ۲؍ بحری جہازوں پر فائر کیا گیاتو کہیں زیادہ بھاری معاشی قیمت ادا کرنی ہوگی اور آپ کے تین بحری جہاز تباہ کر دیں گے۔