Updated: February 15, 2026, 9:08 PM IST
| Tehran
ایرانی صدر پیزشکیان نے ایک بیان میں کہا کہ علاقائی ممالک مسائل باہمی طور پر حل کرسکتے ہیں، کسی بیرونی سرپرستی کی ضرورت نہیں،انہوں نے ترکی،آذربائیجان، عراق، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، پاکستان اور افغانستان جیسے ممالک کے درمیان تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے سلامتی اور حکومتی کاکردگی بڑھانے کے لیے علاقائی لیڈروں کی کوششوں کی تعریف کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان۔ تصویر: آئی این این
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان نےسنیچر کوایک بیان میں کہا کہ خطے کے ممالک اجتماعی اور پرامن طریقے سے باہمی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں بیرونی سرپرستی کی ضرورت نہیں ہے۔تہران میں منعقدہ بین الاقوامی ایران کوریڈور۲۰۲۶ء کانفرنس میں ریل اور روڈ کوریڈورز کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع اور مالی اعانت کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ ،’’ہمیں کسی سرپرست کی ضرورت نہیں ہے۔ علاقائی ممالک ایک ساتھ بیٹھ کر اپنے باہمی مسائل حل کر سکتے ہیں۔‘‘بعد ازاں پزشکیان نے کہا کہ’’ دنیا بہت چھوٹی ہو گئی ہے، اور اقوام کو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے امن، سلامتی اور استحکام کے حالات پیدا کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔‘‘انہوں نے کہا، ’’کسی بھی ملک کو جنگ سے فائدہ نہیں ہوتا،اور تنازعات، تشدد اور خونریزی ترقی کا باعث نہیں بنتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور ایران جنیوا میں ایٹمی مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے رضامند: رپورٹ
ساتھ ہی انہوں نے سلامتی اور حکومتی کاکردگی بڑھانے کے لیے علاقائی لیڈروں کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے ترکی، آذربائیجان، عراق، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، پاکستان اور افغانستان سمیت ممالک کے درمیان تعاون کا حوالہ دیا۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، ’’ہم سب کوشش کر رہے ہیں، اور اس قابل ہیں، کہ اپنے مسائل پرامن طریقے اور سکون سےباہم مل کر حل کر سکیں۔‘‘ مزید برآں ایرانی صدر نے روس کے ساتھ ملک کے گہرے اور وسیع تعلقات پر روشنی ڈالی، اور کہا کہ کانفرنس میں طے پانے والے معاہدے اور دستخط علامتی وعدوں کے بجائے ٹھوس نفاذ کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم عملدرآمد کریں گے، ہم اقدام کریں گے، اور ہم کسی بھی موجودہ رکاوٹ کو تیزی سے دور کریں گے۔‘‘
واضح رہے کہ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال کی حمایت کا اشارہ دیا تھا، جہاں حال ہی میں بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال پر احتجاجکیا گیا تھا۔دوسری جانب نارتھ کیرولائنا ریاست میں فورٹ بریگ کے دورے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ یہ سب سے اچھی چیز ہو سکتی ہے جو ہو سکتی ہے۔‘‘ یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ اور ایران نے۶؍ فروری کو دارالحکومت مسقط میں عمان کی ثالثی میں تہران کے ایٹمی پروگرام پر بات چیت کے لیے بالواسطہ مذاکرات کیے تھے۔یہ مذاکرات جون۲۰۲۵ء میں۱۲؍ روزہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کے بعد تقریباً آٹھ ماہ کی معطلی کے خاتمے کی علامت تھی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز ایران کی جانب بھیج رہا ہے
دریں اثناءامریکہ نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور تہران پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدہ کر لے، اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔ دراصل امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے ، ساتھ ہی ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی مبینہ حمایت کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام کے علاوہ دیگر کسی معاملات پرمذاکرات نہیں کرے گا۔