ایران بھر میں جلوس نکالے گئے۔آئی آر جی سی نے کہا کہ اس شہادت نے انقلابِ اسلامی کو مضبوط کیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 12:38 PM IST | Mumbai
ایران بھر میں جلوس نکالے گئے۔آئی آر جی سی نے کہا کہ اس شہادت نے انقلابِ اسلامی کو مضبوط کیا ہے۔
شہید رہبراعلیٰ علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر جمعرات کے روز لاکھوں ایرانی ملک بھر کی سڑکوں پر نکل آئے۔ عوام نے انقلابِ اسلامی کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ، اعلیٰ کمانڈروں اور میناب اسکول کے بچوں (جو۲۸؍ فروری کو ہونے والے وحشیانہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے) کی شہادت کے چالیسویں دن کی یاد منائی۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دارالحکومت تہران میں جلوس جمہوری اسکوائر سے شروع ہو کر رہبر کی شہادت کے مقام تک پہنچے، جہاں عوام نے ان کے انقلابی راستے سے وفاداری کا اظہار کیا اور دشمن کے مظالم کی شدید مذمت کی۔ ان پُرسوز جلوسوں میں شرکاء نے نعرے لگائے، مرثیے پڑھے اور ان کے انقلابی نظریات سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران آبنائے ہرمز سے فیس وصولی فوراً بند کرے: ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ
خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی بلا اشتعال جارحیت نے نہ صرف ایران کی قیادت بلکہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا، جس میں میناب کے ایک پرائمری اسکول پر تباہ کن حملہ بھی شامل ہے، جس میں۱۷۰؍ سے زائد شہری، جن میں زیادہ تر بچے تھے، جاں بحق ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی اہداف پر۱۰۰؍ مراحل پر مشتمل میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں دشمن کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔بدھ کے روز سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل نے اعلان کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، جب امریکہ نے ایران کے۱۰؍ نکاتی منصوبے کو تسلیم کیا، جس کے بعد عارضی طور پر کشیدگی میں کمی آئی۔رہبر اعلیٰ کو خراج پیش کرتے ہوئے اسلامی انقلابی گارڈز کور(آئی آر جی سی ) نے اپنے بیان میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے انقلابِ اسلامی کو اسی طرح مضبوط کیا ہے جیسے ان کی پوری زندگی کی قیادت نے کیا تھا۔ انہوں نے قوم کے اتحاد، مزاحمت اور دشمن کو پہنچنے والے شدید نقصانات کو ان کی قربانی کا نتیجہ قرار دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق ان کی میراث مزاحمت، خودمختاری، انصاف اور روحانیت پر مبنی مکمل نظام آج بھی ایران کی حکمرانی کے لیے رہنما اصول ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقاریب رات تک جاری رہیں گی، ایرانی عوام اپنے غم کو طاقت میں بدلتے ہوئے ظلم اور بیرونی جارحیت کے خلاف ثابت قدم کھڑے ہیں۔