Inquilab Logo Happiest Places to Work

متحدہ عرب امارات: ہر۵۰؍ میں سے ایک بچہ ڈجیٹل شناخت کی چوری کا شکار

Updated: August 22, 2026, 3:02 PM IST | Dubai

متحدہ عرب امارات میں ہر ۵۰؍ میں سے ایک بچہ ڈجیٹل شناخت کی چوری کا شکار ہورہا ہے، سرکاری سائبر سیکیورٹی کونسل نے زور دیا ہے کہ طلبہ اسکول واپسی کی تیاریوں کے دوران اپنی آن لائن عادات کا جائزہ لیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

متحدہ عرب امارات کی سرکاری سائبر سیکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ ہر۵۰؍ بچوں میں سے ایک بچہ ڈجیٹل شناخت کی چوری کا شکار ہو رہا ہے، جس میں طلبہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسکول واپسی کی تیاریوں کے دوران اپنی آن لائن عادات کا جائزہ لیں۔کونسل نے کہا کہ تعلیمی سال کا آغاز طلبہ کے لیے اپنے اکاؤنٹس، آلات اور ذاتی ڈیٹا کی حفاظت مضبوط کرنے کا ایک موقع ہے، خاص طور پر جب ڈجیٹل پلیٹ فارم تعلیم کا معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔مزیدبر آںاس کی اہم سفارشات میں ایک انتباہ یہ بھی تھا کہ ہر آنے والے پیغام پر بھروسہ نہ کریں۔ طلبہ کو لنکس پر کلک کرنے سے پہلے بھیجنے والے کی شناخت کی تصدیق کرنی چاہیے تاکہ فشنگ پیغامات اور دیگر آن لائن پیدا ہونے والے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ:ایل بٹ ہتھیاروں کی فیکٹری پر چھاپہ:عدالت کا فلسطین حامیوں کوسزا سے انکار

کونسل نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اسکول اور تعلیمی اکاؤنٹس کے لیے مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں اور دو مرحلوں کی تصدیق (ٹو سٹیپ ویریفیکیشن) کو فعال کریں، تاکہ لاگ ان کی معلومات کے تحفظ میں ایک اور تہہ کا اضافہ  ہو جائے۔مزید یہ کہ ذاتی معلومات کو غیر ضروری طور پر شیئر نہ کیا جائے، جبکہ پرائیویسی سیٹنگ کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز اور خدمات کے استعمال کے دوران طلبہ کے ڈیٹا کی نمائش کو محدود کیا جا سکے۔ بعد ازاں کونسل نے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل نام نہاد ’’ڈجیٹل حفظان صحت‘‘ کو انجام دینے کی سفارش کی۔اس میں آلات کو اپ ڈیٹ کرنا، مزید استعمال نہ ہونے والی ایپلیکیشن کو حذف کرنا اور نصب کردہ ایپس کو دی گئی اجازتوں کا جائزہ لینا شامل ہے۔ یہ تدابیر ذاتی معلومات تک غیر ضروری رسائی کو کم کر سکتی ہیں اور طلبہ کو زیادہ محفوظ آلات کے ساتھ تعلیمی سال شروع کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہند رجب کے قتل کی تحقیق کو اس کی دادی نے مسترد کردیا

علاوہ ازیںکونسل نے کہا کہ سیکیورٹی سافٹ ویئر صرف سرکاری اور قابل بھروسہ ذرائع سے ڈاؤن لوڈ کیا جائے۔طلبہ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اسکول کے استعمال ہونے والے آلات پر اسکرین لاک کو فعال کریں۔ یہ اقدام ایک ابتدائی دفاعی لائن کا کام کرتا ہے اگر فون، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ گم یا چوری ہو جائے، جس سے اس میں محفوظ معلومات تک غیر مجاز رسائی کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔کونسل نے کہا کہ جب طلبہ نئے تعلیمی سال کے لیے کلاس روم میں واپس آئیں توروزمرہ کی ڈجیٹل عادات میں نسبتاً سادہ تبدیلیاں طلبہ کے اکاؤنٹس، آلات اور ذاتی معلومات کی حفاظت میں مدد کر سکتی ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK