Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرے والد صرف ایک نمبر نہیں: لبنانی صحافی کا اسرائیل سے جواب دہی کا مطالبہ

Updated: August 22, 2026, 2:08 PM IST | Beirut

لبنانی صحافی زینب عماد یاسین نے اپنے والد کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے بعد انصاف اور جواب دہی کی جدوجہد شروع کر دی ہے۔ وہ اپنے والد کی موت کو محض ایک ذاتی سانحہ نہیں بلکہ جنوبی لبنان میں شہریوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کا سنگین معاملہ قرار دیتی ہیں۔

Zeinab Imad Yassine, inset: Imad Yassine. Photo: INN
زینب عماد یاسین، انسیٹ: عماد یاسین۔ تصویر: آئی این این

لبنانی صحافی زینب عماد یاسین نے اپنے والد کی موت کی خبر فون پر اسکرول کرتے ہوئے جانی۔ نہ کسی رشتہ دار کی فون کال آئی، نہ کوئی سرکاری اطلاع دی گئی اور نہ ہی خود کو اس خبر کیلئے تیار کرنے کا کوئی موقع ملا۔ وہاٹس ایپ پیغامات کے درمیان اسے خبر ملی کہ۶۸؍ سالہ عماد یاسین جنوبی لبنان میں اپنے پولٹری فارم پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہ فارم ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ انہیں یہ کاروبار اپنے والد سے وراثت میں ملا تھا اور وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ ان کی بیٹی نے انہیں بیروت میں رہنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن وہ نہیں مانے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ:ایل بٹ ہتھیاروں کی فیکٹری پر چھاپہ:عدالت کا فلسطین حامیوں کوسزا سے انکار

زینب کے مطابق ان کے والد کا خیال تھا کہ اسرائیل کے پاس انہیں نشانہ بنانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا تھا:’’میرا موبائل ہر روز، ہر رات میرے پاس ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ انہیں معلوم ہے کہ میری پولٹری کمپنی ہے اور میں مرغیوں اور فارم کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا تھا: ’’انہیں بالکل معلوم ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں، کیونکہ آسمان پر۲۴؍ گھنٹے ڈرون موجود رہتے ہیں، اور کبھی کبھی ڈرون ہماری آنکھوں کی سطح تک آ جاتا ہے۔ ‘‘وہ بار بار اپنی بیٹی سے ایک ہی سوال کرتے تھے:’’وہ مجھے کیوں ماریں گے؟ میں ان کیلئے خطرہ نہیں ہوں۔ میں فوجی نہیں ہوں، جنگجو نہیں ہوں۔ میں کچھ نہیں کر رہا، صرف اپنے فارم کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔ ‘‘
زینب کے مطابق ۸؍ جون کو جب ان کے والد ہلاک ہوئے تو وہ فارم پر اپنا معمول کا کام ہی کر رہے تھے اور علاقے کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے بعد بجلی کا جنریٹر ٹھیک کر رہے تھے۔ والد کی موت کے بعد وہی سوال اب زینب کے ذہن میں بھی گردش کرنے لگا۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: طبی معائنے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل

ذاتی غم سے انصاف کی جدوجہد تک
زینب اب اپنے خاندان کے نقصان کو انصاف اور جواب دہی کی جدوجہد میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے قانونی کارروائی کا فیصلہ اس لئے کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کے والد کو ہلاک کرنے والے حملے کا ذمہ دار کون تھا، حتیٰ کہ وہ شخص بھی جس نے ’وہ بٹن دبایا تھا جس سے وہ راکٹ یا میزائل داغا گیا جس نے میرے والد کی رانوں کی شریانیں کاٹ دیں۔ ‘انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ذریعے اس معاملے کو اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو میں کہا:’’مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا کیونکہ میں اپنے والد کی جان لینے پر اسرائیل کے خلاف مقدمہ کرنا چاہتی ہوں۔ انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ ‘‘زینب نے بتایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے ایک عہدیدار سے رابطہ کیا، اپنے والد کی ہلاکت کی تفصیلات پیش کیں اور شواہد بھی جمع کرائے ہیں۔ ان کے مطابق ان مواد کا جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ کے اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی قرض ۴۰؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وینس نے کہا: بیسنٹ کے پاس خفیہ منصوبہ ہے

انہوں نے کہا:’’میرے والد مرنے والوں کی گنتی میں صرف ایک نمبر نہیں ہیں۔ جب آپ انسانی حقوق کونسل کے پاس جاتے ہیں تو آپ یہ کہتے ہیں کہ میں ایک انسان ہوں اور مجھے بھی اس دنیا میں باقی سب لوگوں کی طرح زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ ‘‘زینب کیلئے یہ قانونی جدوجہد اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش بھی ہے کہ ان کے والد کی شناخت اور ان کی موت کے حالات ریکارڈ پر محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا:’’میں عالمی عدالت کے سامنے کہوں گی کہ یہ میرے والد ہیں، یہ عماد یاسین ہیں، اور وہ یہ کام کر رہے تھے۔ یہ وہ کچھ ہے جو قبضے نے ان کے ساتھ کیا، اور انہیں اس سے کبھی بچ نکلنے نہیں دینا چاہئے۔ ‘‘ زینب چاہتی ہیں کہ جواب دہی صرف حملے کے براہِ راست ذمہ دار افراد تک محدود نہ رہے بلکہ اسرائیل کی سیاسی اور فوجی قیادت تک بھی پہنچے۔ انہوں نے کہا: ’’سب سے پہلے مجھے یہ جاننا ہے کہ بٹن کس نے دبایا۔ میں اس شخص کو جیل میں دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں نیتن یاہو کو بھی جیل میں دیکھنا چاہتی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ہند رجب کے قتل کی تحقیق کو اس کی دادی نے مسترد کردیا

شہریوں کیلئے اسرائیل کا پیغام؟
اپنے والد کی ہلاکت کے بعد زینب کے ذہن میں ایک بڑا سوال مسلسل موجود ہے: ’ایک ۶۸؍ سالہ شہری، جو اپنے خاندانی فارم پر کام کر رہا تھا، اسے کیوں نشانہ بنایا گیا؟انہوں نے کہا: ’’میں نے خود سے کئی بار پوچھا کہ وہ میرے والد سے کیا چاہتے تھے؟ انہوں نے انہیں کیوں مارا؟‘‘زینب کا کہنا ہے کہ آخرکار انہیں محسوس ہوا کہ ان کے والد کی ہلاکت کا مقصد ان شہریوں کیلئے پیغام دینا تھا جو جنوبی لبنان میں رہنا یا واپس آنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’انہوں نے انہیں اس لئے نہیں مارا کہ وہ فوجی یا جنگجو تھے، بلکہ اس لئے مارا کہ وہ جنوب میں زندگی کا خاتمہ چاہتے تھے۔ ‘‘ان کے بقول: ’’وہ لبنان کے ہر شخص کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جنوبی لبنان واپس مت جاؤ، کیونکہ اگر تم واپس آئے تو ہم تمہیں مار دیں گے، چاہے تم فوجی ہو یا نہ ہو، جنگجو ہو یا نہ ہو۔ میرے والد کا معاملہ اس کی مثال ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی ایران کے خلاف معاشی جنگ، ایران کی نئے ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

زینب نے اپنے والد کی ہلاکت کو وسیع تر اسرائیل فلسطین تنازع سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی امید یہ ہے کہ ایک دن آزاد فلسطین وجود میں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطین پر قبضہ جاری رہے گا، فلسطینی اور لبنانی دونوں اسرائیلی حملوں کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔ انہوں نے اسرائیل پر خطے میں اپنی سرحدیں اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا: ’’انہیں جاننا ہوگا کہ وہ نسل کشی یا جرائم کا ارتکاب کرتے رہنے کی اجازت نہیں رکھ سکتے۔ یہ درست نہیں کہ اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے، وہ کرتا رہے اور بغیر کسی سزا کے بچ نکلے۔ ہم دنیا میں انسانیت کھو رہے ہیں، کیونکہ ہم اصل قاتل کا سامنا نہیں کر رہے۔ ‘‘
یاد رہے کہ غزہ میں فلسطینی حکام کے مطابق ۷؍اکتوبر۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیل نے۷۳؍ ہزار سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ۲؍ مارچ سے اسرائیلی حملوں میں ۴؍ ہزار ۳۴۶؍ افراد ہلاک اور۱۲؍ ہزار ۳۰۱؍زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کا اندازہ ہے کہ ملک میں تقریباً۳؍ لاکھ۶۰؍ ہزار افراد بے گھر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر امریکہ اسرائیل سے ناراض

’’میں اپنے گھر واپس نہیں جا سکتی‘‘
اس تنازع کے اثرات زینب کیلئے والد کی موت تک محدود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ جنوبی لبنان میں واقع اپنے گھر واپس جانے کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ انہوں نے کہا: ’’اگر میں جنوبی لبنان میں اپنے گھر جاؤں اور چھت پر چلی جاؤں تو مجھے اسرائیلی نظر آتے ہیں۔ میں اب اپنے گھر واپس نہیں جا سکتی۔ کیا آپ اس صورتِ حال کا تصور کر سکتے ہیں ؟‘‘انہوں نے اپنے آبائی شہر شوکین کے قریب واقع گاؤں زوتر شریعہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مبینہ طور پر سیکڑوں زیتون کے درخت ہٹائے جانے کا بھی حوالہ دیا اور اسے علاقے میں شہری زندگی کے خاتمے کی ایک اور مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق اس تجربے نے انہیں یہ محسوس کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ’اس دنیا میں انسانیت کی کم سے کم سطح بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ‘زینب نے کہا کہ اس تجربے نے جو کچھ ہو رہا ہے اسے دستاویزی شکل دینے کے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ دیگر افراد کو بھی انصاف اور جواب دہی کیلئے آواز اٹھانے کی ترغیب دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ امسال کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے

انہوں نے کہا: ’’ہمیں خون کے ہر قطرے اور ہر مسمار کئے گئے گھر کیلئے اسرائیل کے خلاف مقدمہ کرنا چاہئے۔ ‘‘انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ شہریوں پر تنازع کے اثرات کو ریکارڈ کرتے رہیں اور ان کے بارے میں بات کریں۔ انہوں نے کہا: ’’اگر آپ بات کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے تو اسرائیل کے بارے میں بات کریں اور ہر چیز کو دستاویزی شکل دیں، کیونکہ ہم کم از کم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں۔ ‘‘زینب نے خبردار کیا کہ اگر کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو مزید خاندانوں کو بھی اسی طرح کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا:’’میں چاہتی ہوں کہ دنیا ہمیشہ یہ بات یاد رکھے، ورنہ عماد یاسین جیسے مزید، مزید اور مزید لوگ اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ہاتھوں مارے جانے والے تمام شہدا کی تعداد بڑھتی رہے گی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK