Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئرلینڈ جیل بحران: افسران نے قیدیوں کی بڑھتی تعداد کو ’’قومی اسکینڈل‘‘ قرار دیا

Updated: April 30, 2026, 10:01 PM IST | Dublin

پریزن آفیسرز اسوسی ایشن نے آئرلینڈ کی جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’قومی اسکینڈل‘‘ قرار دیا ہے۔ قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کئی گنا بڑھ چکی ہے، جس کے باعث تشدد، منشیات کی اسمگلنگ اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

آئرلینڈ کی جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی تعداد سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے جیل افسران نے ’’قومی اسکینڈل‘‘ قرار دیا ہے۔ پریزن آفیسرز اسوسی ایشن (پی او اے) نے اپنی سالانہ کانفرنس میں خبردار کیا کہ موجودہ حالات نہ صرف جیلوں کے نظم و نسق کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ قیدیوں اور عملے دونوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، اس وقت آئرلینڈ کی جیلوں میں ۶۶۰۰؍ سے زائد قیدی موجود ہیں، جو دستیاب گنجائش سے تقریباً ۱۹۰۰؍ زیادہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بڑی تعداد میں قیدی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اور کچھ کو فرش پر سونے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کی وطن واپسی پرخوفزدہ ہونے والوں کی ویزا درخواست رد کرنے کی ہدایت

پی او اے کے قائم مقام صدر پیٹر ریڈمنڈ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’فرش پر سونے والے قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی علامت ہے کہ کمزور افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ان کے لیے حقیقی وابستگی کا فقدان ہے۔‘‘ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جیلوں میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۲۴ء میں ایسے واقعات کی تعداد ۱۰۹۳؍ تھی، جو گزشتہ سال بڑھ کر ۱۵۰۳؍ ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی جیل عملے پر حملوں میں بھی ۲۳؍  فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
گیبرئیل کیوینی جو پی او اے کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ہیں، نے کہا کہ ’’جیلیں دائمی حد سے زیادہ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے مسلسل بحران کی حالت میں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’ہمارے ممبران سے روزانہ ایک ایسا کام کروایا جا رہا ہے جو حقیقت میں ناممکن ہے۔‘‘ ذہنی صحت کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ۲۵۰۰؍ قیدی نفسیاتی معاونت کے منتظر ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان میں جاری تنازع کےباعث ۱۲ لاکھ سےزائد افراد شدید بھوک کا سامنا کررہے ہیں: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ

گیبرئیل نے ایک اور اہم نکتہ اٹھایا کہ ’’تقریباً ۱۰؍ فیصد قیدی فرش پر سونے پر مجبور ہیں، اور یہ حکومت کے خلاف ایک چونکا دینے والا فرد جرم ہے۔‘‘ مزید برآں، بھیڑ بھاڑ نے غیر قانونی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیا ہے۔ اس سال اب تک ۴۰۰؍ سے زائد ڈرون کے ذریعے جیلوں میں ممنوعہ اشیاء پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں منشیات، موبائل فون اور ہتھیار شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب جیلیں حد سے زیادہ بھر جاتی ہیں، تو بدقسمتی سے مجرم عناصر کو پنپنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ کمزور قیدی خاموشی سے شکار بن جاتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ آئرش حکومت کی جانب سے اس بحران پر کوئی جامع نئی پالیسی یا فوری حل کا اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم عوامی دباؤ اور یونینز کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مہینوں میں جیل اصلاحات پر توجہ دی جائے گی۔ پی او اے نے یہ کہتے ہوئے حکومتوں کو اس بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ گزشتہ ۲۶؍ برسوں میں صرف ایک نئی جیل تعمیر کی گئی، جبکہ قیدیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ماہرین کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید بگڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف جیلوں کے اندر سلامتی کے مسائل بڑھیں گے بلکہ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK